جنوبی وزیرستان: ملک جمیل پر حملوں کے بعد توجئے خیل قبیلے کا 600 رکنی لشکر بنانے کا اعلان

جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مقامی قبائلی رہنما ملک جمیل پر حالیہ حملوں کے خلاف احمد زئی وزیر قبیلے کے ذیلی شاخ توجئے خیل نے 600 افراد پر مشتمل قبائلی لشکر تشکیل دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ علاقے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور قوم کے سربراہ ملک جمیل جمیل توجئے خیل پر پے درپے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے شدید غم و غصے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق توجئے خیل قبیلے کے مشران نے مساجد کے لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے پوری قوم کو اس فیصلے سے آگاہ کیا اور تمام متعلقہ افراد کو فوری طور پر لشکر میں اپنی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

قبائلی مشران کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک جمیل کے ساتھ یکجہتی اور علاقے میں امن کی بحالی کے لیے اجتماعی ذمہ داری کے تحت کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد نے ملک جمیل کے دو بیٹوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ گزشتہ روز بھی بعض مسلح عناصر کی جانب سے حملہ اور بعد ازاں ان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا جس کے بعد قبیلے کے مشران نے آج ہنگامی جرگہ بلایا تھا۔

قومی فیصلے کے مطابق لشکر کی تشکیل کے لیے سخت قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں، جن کے تحت جو بھی شخص مقررہ وقت پر لشکر میں شامل ہونے سے قاصر رہے گا، اس پر 10 لاکھ روپے کا بھاری قومی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اجتماعی فیصلے کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے فرد کو قبیلے اور علاقے سے بے دخل کرنے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

توجئے خیل قوم کے مشران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امن و امان کے قیام اور اپنے مشران کے تحفظ کے لیے پورا قبیلہ متحد ہے اور اس فیصلے پر ہر صورت سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔