جنوبی وزیرستان:احمد زئی وزیر قبائل کا گرینڈ جرگہ،حکومت سے قیام امن کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں امن و استحکام کے قیام کے سلسلے میں احمد زئی وزیر قبائل آج بروز بدھ کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقے کے عمائدین، مشران، منتخب نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگے کے شرکاء نے خطے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپورٹس سے وابستہ معروف فٹبالر سبیل نور کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا۔

سبیل نور کو گزشتہ روز ڈوگ فٹبال گراؤنڈ سے اغوا کیا گیا تھا جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے منتخب نمائندوں ایم این اے زبیر وزیر، ایم پی اے عجب گل وزیر، مولانا رفیع الدین، ملک روشان، ملک پرملا خان، ملک عزیز اللہ، ملک خیال محمد، سماجی کارکن عبدالرحمن اور ملک ثناء اللہ نے کہا کہ جنوبی وزیرستان بالخصوص وانا گزشتہ دو برسوں سے ایک مرتبہ پھر بدامنی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

مقررین کے مطابق اس دوران متعدد علما، قبائلی عمائدین، پولیس اہلکار، نوجوان اور عام شہری امن عامہ کے مسائل اور پرتشدد واقعات کا شکار ہو چکے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری کشمکش کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں اور قبائل نے بھگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائل ایک ایسی جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی جانوں کے ساتھ ساتھ املاک اور کاروبار بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف پرتشدد واقعات، دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے باعث متعدد خاندان اجڑ گئے اور بے شمار بچے یتیم ہو گئے جبکہ متاثرہ خاندانوں کی دردناک داستانیں بیان کرتے ہوئے جرگے کے شرکاء آبدیدہ ہو گئے۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری، ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے، تاہم ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بدامنی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔

جرگے کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام مزید عدم استحکام اور نقل مکانی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے قبائلی روایات اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لایا جائے گا۔

جرگے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ 14 جون بروز اتوار ایک اور گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں پوری قوم کی مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔