آن لائن فراڈ یا غریب مزدور کی شناختی دستاویز کا غلط استعمال؟ شانگلہ کا شیر زمان سائبر کرائم ایجنسی کی زد میں

اسماعیل شاکر

خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع شانگلہ کے کوئلہ کان مزدور جب بھی عید کے تہوار پر دیس لوٹتے ہیں تو ان کی جیبوں میں موجود محنت کی کمائی پر دکانداروں، مقامی ڈاکٹروں اور ٹرانسپورٹرز کی نظریں ہوتی ہیں۔ عید کی چھٹیوں میں ان کے گھروں پر پچھلے ادھار کے بل آنا ایک معمول کی بات ہے جسے یہ مزدور خاموشی سے ادا کر دیتے ہیں۔

لیکن اس بار تحصیل الپوری کے نواحی گاؤںڈھیری کے ایک غریب مزدور شیر زمان کی کہانی بالکل مختلف اور انتہائی تشویشناک ہے۔شیر زمان جب اس عید پر ہنستا کھیلتا گھر پہنچا تو ڈاکخانے کے اہلکار نے اس کے ہاتھ میں ایک سرکاری لفافہ تھمایا۔

شیر زمان پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا اس لیے وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی این سی سی آئی اے کے ریڈار پر آ چکا ہے۔جب گاؤں کے ایک تعلیم یافتہ شخص سے اس نے وہ خط پڑھوایا، تو غریب مزدور کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

خط کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے شیر زمان کو گوجرانوالہ دفتر طلب کر رکھا ہے اور ان پر آن لائن مالی بدعنوانی یا سائبر فراڈ کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر گوجرانوالہ پہنچ کر اس معاملے میں اپنی صفائی پیش کریں۔اصل کہانی یا شناختی چوری کا شاخسانہ؟مزدور شیر زمان نے آن لائن مالی بدعنوانی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔

خط میں جس موبائل نمبر کا ذکر کیا گیا ہے اور جس کے ذریعے مبینہ فراڈ ہوا شیر زمان کا کہنا ہے کہ وہ نمبر زندگی میں کبھی ان کے استعمال میں رہا ہی نہیں اور نہ ہی ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ میں نے زندگی بھر کوئلے کی تاریک کانوں میں سخت مزدوری کر کے حلال کمایا ہے۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ آن لائن بینکنگ یا انٹرنیٹ فراڈ ہوتا کیا ہے۔ لگتا ہے کسی نے میری شناختی دستاویزات شناختی کارڈ کا غلط استعمال کر کے یہ سم نکلوائی اور مجھے اس دلدل میں دھکیل دیا۔

سرکاری محکموں کا روایتی رویہ معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے جب اس نمائندے نے خط میں دیے گئے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی گوجرانوالہ کے آفیشل نمبر پر بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ہمیشہ کی طرح دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ متعدد بار گھنٹی جانے کے باوجود کسی اہلکار نے فون اٹھانا گوارا نہیں کیا۔

غریب مزدور دوہری اذیت کا شکارسرکاری محکمے کی اس بے رخی اور قانونی پیچیدگیوں نے شیر زمان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ خوف کے مارے وہ دوبارہ مزدوری پر بھی نہیں جا پا رہا کیونکہ اسے ڈر ہے کہ کہیں پیچھے سے پولیس اسے گرفتار نہ کر لے۔

دوسری جانب ماورائے عدالت گرفتاری اور ہراساں کیے جانے کے خوف سے وہ گوجرانوالہ دفتر میں پیش ہونے سے بھی کترا رہا ہے۔