جنوبی وزیرستان ،سراروغہ میں اہم قبائلی جرگہ، طویل کرفیو اور چیک پوسٹوں پر بار بار انٹری کا طریقہ کار ختم کرنے کا مطالبہ

سراروغہ میں امن و امان کی صورتحال، طویل کرفیو اور چیک پوسٹوں پر شہریوں کی بار بار انٹری کی وجہ سے درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں مقامی رہنماؤں نے عوامی مسائل اور مطالبات کو کھل کر سامنے رکھا۔

جرگے کے شرکاء نے واضح کیا کہ ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر قائم چیک پوسٹوں پر بار بار اندراج (انٹری) کرانے کے سخت طریقہ کار نے مقامی آبادی کی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کرنے والے ہفتہ وار طویل کرفیو پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئےسیاسی و سماجی رہنما اور سابق تحصیل میئر شاہ فیصل غازی نے سراروغہ ہسپتال کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ہسپتال کی عمارت میں پولیس کی موجودگی کی وجہ سے علاقہ مکین علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے لیے الگ عمارت جلد از جلد تعمیر کی جائے تاکہ ہسپتال کو مکمل طور پر عوام کے لیے کھولا جا سکے۔

اس موقع پر عالمزیب محسود نے کہا کہ کرفیو کے نفاذ میں نمایاں کمی کی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کی آمدورفت اور کاروباری زندگی بحال ہو سکے۔

سابق سینیٹر مولانا صالح شاہ نے چیک پوسٹوں کے نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی علاقے میں ایک پوسٹ پر انٹری کے بعد ہر اگلی چوکی پر دوبارہ اندراج کا قانون سمجھ سے بالاتر ہے اور اس سے عوام زردار تنگ آ چکے ہیں۔

جرگے کے آخر میں عمائدین نے مقتدر حلقوں اور حکام سے مطالبات کو فوری طور پر حل کرنےمطالبہ کیا۔