خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور باجوڑ میں دہشت گردی کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک بچی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ دس افراد زخمی ہوگئے.
لکی مروت کے علاقے خیرو خیل پکہ میں بارود سے لاد ہ موٹر سائیکل پر سوار ایک مبینہ خودکش حملہ آور مسجد کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وہاں سکیورٹی پر مامور مستعد اہلکار نے خطرے کو بھانپتے ہوئے اسے مسجد تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنا لیا جس پر حملہ آور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور اس نے ہدف سے قبل ہی خود کو اڑا دیا۔
دھماکے کے نتیجے میں ایک معصوم بچی سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ دس افراد زخمی ہو گئے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امدادی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں اور تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دوسرے واقعے میں باجوڑ کی تحصیل برنگ کے علاقے ترغاؤ میں سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی (بم) کا دھماکہ ہوا، جس کی زد میں آ کر ایک ساٹھ سالہ بزرگ جاں بحق ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت شہزادہ میاں ولد زر سید میاں کے نام سے ہوئی ہ جن کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے خار ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی سعید الرحمن نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ترغاؤ برنگ میں پیش آنے والے اس دھماکے کی مختلف پہلوؤں سے باریک بینی کے ساتھ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وہاں سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔









