ضلع بنوں میں امن و امان کی ابتر صورتحال، ٹارگٹ کلنگ اور سڑکوں کی بندش کے خلاف اقوامِ بنوں کے قومی جرگہ کی کال پر پیر کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کے باعث شہر کے تمام تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ ہزاروں مظاہرین نے سفید جھنڈے اٹھا کر امن چوک پر بڑا احتجاجی دھرنا دیا.
احتجاجی دھرنے سے سابق سینیٹر باز محمد خان، پروفیسر ابراہیم خان، ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ اور دیگر مشران نے خطاب کیا۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں “گڈ اور بیڈ” کی پالیسی ختم کی جائے، قومی جرگہ کے رہنما عبدالصمد خان کو رہا کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
مشران کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں منظور شدہ مطالبات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا جو کہ تشویشناک ہے۔
بعد ازاں، ضلعی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں شہر کے اطراف کی سڑکیں کھولی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں جمعہ خان روڈ، کوٹ براڑہ اور امندی روڈ کو بحال کیا جائے گا۔
انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ امن کی بحالی اور دیگر مطالبات پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا جس کے بعد مشران نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔









