محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے صوبے کے 23 اضلاع میں یونیسیف کے تعاون سے جاری تعلیمی منصوبوں میں شفافیت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی تصدیق کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے تمام متعلقہ ضلعی تعلیمی افسران کو ویری فکیشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون اور سہولیات کی فراہمی کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ مراسلے کے مطابق اس تھرڈ پارٹی ویری فکیشن کے دوران پیرنٹ ٹیچر کونسلز، سکول ڈویلپمنٹ پلانز، ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام اور ابتدائی بچپن کی تعلیم سے متعلق تمام جاری سرگرمیوں اور فنڈز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم نے ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیموں کی آمد پر تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات کی دستیابی یقینی بنائیں۔ جانچ کا عمل بلا تاخیر اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر فوری طور پر فوکل پرسن بھی نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ویری فکیشن ٹیمیں سکولوں کا دورہ کرکے کلاس رومز کا براہِ راست مشاہدہ کریں گی اور ہیڈ ٹیچرز، اساتذہ، والدین، پیرنٹ ٹیچر کونسل کے اراکین اور محکمہ تعلیم کے حکام سے انٹرویوز کریں گی تاکہ جاری منصوبوں کی کارکردگی اور میدانی اثرات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ اہم مراسلہ باجوڑ، بنوں، بٹگرام، بونیر، ڈیرہ اسماعیل خان، اپر دیر، ہنگو، کرک، خیبر، کولائی پالس، کرم، لکی مروت، لوئر کوہستان، مہمند، شمالی وزیرستان، اورکزئی، شانگلہ، لوئر جنوبی وزیرستان، صوابی، سوات، ٹانک، تورغر اور اپر کوہستان کے ڈی ای اوز کو بھیجا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کا بنیادی مقصد یونیسیف کے تعلیمی منصوبوں کی موثریت کو بڑھانا اور صوبے میں تعلیمی نظام کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔









