جنوبی وزیرستان: افغان مہاجرین کی آڑ میں سلیمان خیل قبائل کو ہراساں کرنا بند کیا جائے، مشران

سلیمان خیل قبیلے کے مشران نے افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں مقامی پاکستانی شہریوں کی گرفتاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا جنوبی وزیرستان لوئر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلیمان خیل قبیلےکے مشران کا کہنا تھا کہ پولیس افغان مہاجرین کے خلاف مہم کا سہارا لے کر سلیمان خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو بے جا ہراساں اور گرفتار کر رہی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک اعظیم سلیمان خیل، سردار ملک متین، ملک حق داد اور ملک کالا خان نے بتایا کہ اگر کسی خاندان کے ایک فرد کے پاس شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو پولیس اسے تصدیق کے بغیر افغان شہری قرار دے کر ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ناروا سلوک کے باعث بے گناہ مقامی خاندان شدید ذہنی اذیت اور خوف کا شکار ہیں۔

قبیلے کے مشران نے واضح کیا کہ سلیمان خیل قبیلے کے ہزاروں افراد پنجاب، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں آباد ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ یہ غیر قانونی رویہ فوری بند کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی شہری کے پاس موقع پر شناختی دستاویزات موجود نہ ہوں تو قبیلے کے 5 معتبر مشران کی تصدیق کو قانونی طور پر قبول کیا جائے تاکہ بے گناہ افراد کو گرفتاری سے بچایا جا سکے۔

قبائلی رہنماؤں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بلاجواز ہراسانی کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو سلیمان خیل قبیلہ بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔