خیبر: سابق فاٹا اور ملاکنڈ میں ٹیکس نفاذ کے خلاف جمرود میں تاجر سڑکوں پر، باڑہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

وفاقی حکومت کی جانب سے سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس نظام کے نفاذ کے خلاف ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ اور جمرود میں تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا ہے جس کے باعث علاقے میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

انجمن تاجران باڑہ کی کال پر باڑہ کے مرکزی بازار میں مکمل شٹ ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور تمام تجارتی مراکز اور دکانیں بند رہیں۔ اس موقع پر انجمن تاجران کے زیرِ اہتمام ایک احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا جس میں مقامی تاجروں کے ساتھ ساتھ سابق منتخب نمائندوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور تاجروں کے مطالبات کی حمایت کی ۔

دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کی موجودہ معاشی صورتحال، پسماندگی اور تاجر برادری کے مسائل کو نظر انداز کر کے ٹیکس عائد کرنا مقامی تاجروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کی خصوصی آئینی و معاشی حیثیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے اور مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

دوسری جانب تحصیل جمرود میں بھی انجمن تاجران جمرود بازار اور برف انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایف بی آر کے ٹیکس نظام اور حکومت کی سخت مالیاتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

تاجر رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے ٹیکس استثنیٰ بحال نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے خطے تک پھیلا دیا جائے گا اور تمام قبائلی اضلاع میں مکمل پہیہ جام اور شٹ ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف گزشتہ چند دنوں سے مختلف قبائلی اضلاع میں تاجروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اور جرگے منعقد کئے جارہے ہیں ۔