آج صبح چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے مولانا شیخ محمد ادریس خیبر پختونخوا کی ایک ممتاز علمی، مذہبی اور سیاسی شخصیت تھے۔
ان کا تعلق چارسدہ کے علاقے ترانزئی سے تھا جہاں وہ 1961 میں معروف عالمِ دین حکیم مولانا عبدالحق کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی مدرسہ جامعہ نعمانیہ سے حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا رخ کیا۔
مذہبی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ مولانا ادریس نے عصری تعلیم میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے جامعہ پشاور سے اسلامیات اور عربی میں ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور تدریس کے لیے وقف کر دی اور وفات تک اپنے مادرِ علمی جامعہ نعمانیہ میں بطور استاد وابستہ رہے۔
سیاسی میدان میں بھی ان کا کردار انتہائی فعال رہا۔ وہ شروع ہی سے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ تھے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ وہ جے یو آئی چارسدہ کے امیر بھی رہے اور موجودہ وقت میں ضلعی تنظیم کے سرپرستِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ وہ معروف عالمِ دین مولانا شیخ حسن جان شہید کے داماد تھے، جنہیں 2007 میں پشاور میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
مولانا ادریس ملک میں امن کے قیام کے لیے بھی کوشاں رہے۔ سال 2024 میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا، جہاں افغان قیادت سے سیکیورٹی مسائل اور تحریک طالبان پاکستان سے متعلق اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ وہ دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنے سخت موقف کی وجہ سے جانے جاتے تھے اور شدت پسندی کے خلاف ہمیشہ کھل کر آواز بلند کرتے رہے۔
پولیس حکام کے مطابق مولانا ادریس کو منگل کے روز اتمائزئی کے علاقے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر سے مدرسے جا رہے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔ واقعے میں ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال چارسدہ کے ڈاکٹروں نے ان کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا کو سیکیورٹی خدشات لاحق تھے اور کیس کی تفتیش تمام پہلوؤں سے جاری ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔









