ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے مشران کے درمیان ایک اہم امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت دونوں اطراف سے فوری جنگ بندی اور تجارتی راستوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ معاہدہ 4 مئی کو باجوڑ کے علاقے ناوا پاس میں منعقدہ ایک جرگہ میں طے پایا جس میں باجوڑ کی نمائندگی چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی لعل شاہ پشتون یار اور کنڑ کی نمائندگی حاجی ظاہر گل نے کی۔
معاہدے کے مطابق دونوں جانب سے مکمل جنگ بندی برقرار رکھی جائے گی اور باجوڑ، مہمند اور کنڑ کی حدود میں سیکیورٹی فورسز ایک دوسرے پر کسی قسم کی فائرنگ نہیں کریں گی۔
اس کے علاوہ یہ بھی طے ہوا کہ باجوڑ اور کنڑ کے مشران ہر تین ماہ بعد اجلاس بلائیں گے تاکہ اس معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔
حاجی لعل شاہ پشتون یار نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں اطراف کے عوام کو امن کا پیغام ملے گا اور جلد ہی تجارتی راستے کھلنے سے آمد و رفت معمول پر آ جائے گی۔ جرگے کے اختتام پر افغان مشران کی جانب سے حاجی لعل شاہ کو امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سرحد پار سے فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ باجوڑ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران ماموند اور سالارزئی کے علاقوں میں سرحد پار سے فائرنگ کے 6 واقعات ہوئے جن میں 9 شہری جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ متعدد گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔









