یاسر محسود کے اغوا کا معاملہ، طارق آفریدی نے تمام الزامات مسترد کردیے

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کرکٹر شاہد خان آفریدی کے بھائی طارق آفریدی نے اے اے ایچ گروپ کے حاجی ناصر محسود کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

جمرود پریس کلب میں آفریدی اقوام کے مشران کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ شاہد خان آفریدی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف ہرجانے کے دعوے سمیت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ پریس کانفرنس اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جہاں رواں ماہ 5 جنوری کو ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں چیئرمین فاٹا لویا جرگہ حاجی بسم اللہ خان آفریدی کے حجرے میں محسود اور آفریدی قبائل کے مشران کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت یاسر محسود کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ طارق آفریدی نے انہیں پشاور یونیورسٹی روڈ پر واقع دفتر سے مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔

طارق آفریدی نے حاجی ناصر محسود کی جانب سے یاسر محسود کے اغواء کے اس الزام کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے حلفیہ بیان دیا کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

انہوں نے محسود قوم کو اپنی بھائی اور قابل احترام قوم قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی اغواء کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو پشاور کے سیف سٹی منصوبے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج پیش کی جائے اور اب تک اس معاملے کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یاسر محسود لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ انہیں مخصوص مقاصد کے لیے خود ان کے قریبی افراد نے منظرعام سے ہٹایا ہے جیسے ماضی میں ان کے بھائی رمضان محسود کے معاملے میں ہوا تھا جو بعد میں بیرون ملک منتقل ہو گئے تھے.

انہوں نے اصل معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اور اے اے ایچ گروپ کا تنازع خالصتاً کاروباری نوعیت کا ہے جس کے تمام قانونی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔

طارق آفریدی کے مطابق انہوں نے 45 کروڑ روپے کے عوض چھٹے، ساتویں اور آٹھویں فلورز کا سودا کیا تھا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چھٹا فلور کسی اور کو بیچ کر ایڈوانس بھی لیا جا چکا تھا جس پر انہیں متبادل کے طور پر بیسمنٹ دیا گیا۔ بعد ازاں یہ فلورز انہی سے کرائے پر لیے گئے لیکن گزشتہ 14 ماہ سے کوئی کرایہ ادا نہیں کیا گیا اور رقم مانگنے پر حیلے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔

طارق آفریدی نے مزید بتایا کہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے وزیر، آفریدی، محسود اور شینواری اقوام پر مشتمل چار اقوامی جرگہ بھی منعقد ہوا تھا جس نے فریق مخالف کو ادائیگی کے لیے پانچ ماہ کی مہلت دی تھی۔

انہوں نے جرگے کے فیصلے کو تسلیم کیا لیکن فریق مخالف نے تحریری یقین دہانی اور 40 کروڑ روپے کے چیکس دینے کے باوجود جرگے کے فیصلے پر عمل نہیں کیا اور اب مالی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے جرگوں میں جا کر قبائلی جذبات ابھار رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ سوسائٹی میں بطور منیجر کام کرتے تھےبلکہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں نے غریبوں، یتیموں اور عام سرمایہ کاروں کی رقوم اس منصوبے میں لگوائی تھیں جن کی انہوں نے ضمانت دے رکھی ہے۔

یاد رہے کہ 5 جنوری کو ہونے والے جرگے میں فاٹا لویہ جرگہ کے مشران اور آفریدی عمائدین نے محسود قبیلے سے وقت مانگا تھا تاکہ وہ شاہد آفریدی اور طارق آفریدی سے رابطہ کر کے ان کا مؤقف معلوم کر سکیں، جس کے بعد اب طارق آفریدی نے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا باضابطہ اور تفصیلی مؤقف میڈیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔
طارق آفریدی نے واضح کیا کہ ان کا خاندان صاف ستھرا ریکارڈ رکھتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ غیرت مند محسود قوم حق و انصاف کا ساتھ دے گی۔

انہوں نے پریس کانفرنس کے اختتام پر دہرایا کہ شاہد خان آفریدی پورے پاکستان کا فخر ہیں اور ان کا نام غیر متعلقہ تنازعات میں گھسیٹ کر بدنام کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔