اعظم ورسک میں کشیدگی، انتظامیہ کا گھر خالی کرنے کا الٹی میٹم، مقامی جرگے کا نقل مکانی سے انکار

سعید وزیر
جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث شدید تشویش اور غیر یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں پمفلیٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں شہریوں کو آج شام 6:00 بجے تک گھر خالی کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

علاقے میں تقسیم کیے جانے والے پمفلیٹ میں اردو اور پشتو زبانوں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ آپ کو اطلاع اور خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کا گھر خوارج کی سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ آج شام 06:00 بجے تک گھر خالی کر دیں۔ آج رات آپ کے گھر پر ڈرون اور آرٹلری سے فائر کیا جائے گا۔ اگر گھر خالی نہ کیا گیا تو حکومت کسی جانی یا مالی نقصان کی ذمہ دار نہیں ہو گی۔

اس اچانک نوٹس کے بعد مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے پیشِ نظر اعظم ورسک بازار اور تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔

حکومتی الٹی میٹم کے بعد اعظم ورسک میں مقامی عمائدین کا ایک ہنگامی اور اہم جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں موجودہ حالات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

طویل مشاورت کے بعد جرگے نے متفقہ طور پر حکومتی ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں منتقل نہیں ہوگا۔

جرگے کے عمائدین کا کہنا تھا کہ انہیں نقل مکانی کا فیصلہ کسی صورت منظور نہیں۔ جرگے نے یہ سخت فیصلہ بھی سنایا کہ اگر کسی بھی شخص نے گھر بار چھوڑ کر جانے کی کوشش کی تو اس پر بھاری مقامی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس وقت پورے علاقے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ کی جانب سے ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کارروائی کا خطرہ ہے تو دوسری طرف مقامی قائدین نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کردیاہے۔