صوبائی بجٹ میں شمالی وزیرستان کا حصہ انتہائی کم ہے،فنڈز بڑھائے جائیں،رکن اسمبلی نیک محمد خان

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی نیک محمد خان نے صوبائی بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئےشمالی وزیرستان کے لیے مختص فنڈز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ایوان کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں شمالی وزیرستان کے لیے رکھا گیا حصہ انتہائی کم ہے جو وہاں کے حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق بالکل ناکافی ہے۔

نیک محمد خان نے علاقے کی مخدوش صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان آج بھی جنگی حالات کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہونے والےحالیہ مختلف آپریشنز کے دوران مقامی آبادی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور شہریوں کی مارکیٹیں اور دکانیں تک تباہ ہو چکی ہیں جن کا تاحال ازالہ نہیں کیا جا سکا۔

رکن صوبائی اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگ اور آپریشنز سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ بحالی اور پسماندگی دور کرنے کے لیے بجٹ میں فوری طور پر فنڈز بڑھائے جائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ عوامی مشکلات کے خاتمے اور کاروباری نقصانات کے ازالے کے لیے مزید فنڈز مختص کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب تیراہ میں آپریشن شروع ہوا تو وزیراعلی سہیل آفریدی نے فوری طور پر متاثرین کیلئے چار ارب روپے جاری کردیئے تو شمالی وزیرستان کے اپریشنز سے متاثرہ لوگوں کیلئے پیسے کیوں نہیں دیئے گئے۔میں چاہتا ہوں کہ وزیراعلی شمالی وزیرستان کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھے جو انہوں نے باڑہ کے ساتھ رکھا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک طرف میرے ترقیاتی فنڈز گذشتہ ایک سال سے بند کئے گئے ہیں اور اب شمالی وزیرستان کے ٹارگٹ اپریشنز سے متاثرہ قبائل کو نظر انداز کیا جارہاہے۔