وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری محکموں میں کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے ایک تاریخی اور بڑا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کے کام کے لیے کنٹریکٹ پر کی گئی تمام تعیناتیاں غیر آئینی تصور ہوں گی کیونکہ ملازمین کی مستقلی کی بنیاد برابری کا اصول اور بنیادی آئینی حقوق ہیں۔
آئینی عدالت نے سابقہ فاٹا کے ڈسپنسرز کو مستقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ملازمین کو سال 2002 میں ان کی تعیناتی کی تاریخ سے مستقلی کے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے۔
عدالتِ عالیہ کے جسٹس ارشد حسین کا تحریری کردہ چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ان ملازمین کا کیس وفاقی کابینہ کے 29 اگست 2008 کے فیصلے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جس کے تحت گریڈ 1 سے 15 تک کے تمام ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان ملازمین کو کسی مخصوص پروجیکٹ کے لیے بھرتی کیا گیا تھا لہٰذا انہیں مستقل کرنے کے بجائے سال 2010 میں ملازمتوں سے برطرف کرنا سراسر غیر قانونی تھا۔
آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ یہ محض ملازمت کا کوئی عام کیس نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، کیونکہ اس کیس کا براہِ راست تعلق آئین کے تحت زندگی گزارنے کے بنیادی حق سے ہے اور اس حق کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کے پاس مستقل روزگار موجود ہو۔
عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مستقل آسامیوں کے عوض کنٹریکٹ پر بھرتیاں کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہے، آئین کی منشا ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے لیکن سرکاری اداروں میں ملازمین کو عارضی طور پر بھرتی کرنا ایک رواج بن چکا ہے، اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ ملازمین کی عارضی تعیناتیوں کی مخالفت کی ہے۔










