سال 2023 گزشتہ 43 برسوں میں قدرتی آفات کے لحاظ سے بدترین سال قرار،قومی اقتصادی سروے میں انکشاف

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے 2025-26 میں موسمیاتی تبدیلیوں کو پاکستان کی معیشت اور روزگار کے لیے ایک بڑا ساختی چیلنج قرار دے دیا گیا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق سال 2023 گزشتہ 43 برسوں (1980 سے اب تک) کے دوران قدرتی آفات کے لحاظ سے بدترین سال رہا، جس میں ریکارڈ 13 بڑی موسمیاتی آفات آئیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 1980 کی دہائی میں سالانہ آفات کی تعداد صفر سے 4 تھی، جو 2000 کے بعد بڑھ کر 6 سے 11 تک پہنچیں اور اب یہ محض وقتی مسئلہ نہیں بلکہ مستقل خطرہ بن چکی ہیں۔

اقتصادی سروے کے مطابق، سال 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے ملک کو مجموعی طور پر 822 ارب روپے کا خطیر مالی نقصان پہنچایا۔ ان سیلابوں کے باعث 1,039 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، 40 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور مجموعی طور پر 65 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ معاشی شعبوں میں سب سے زیادہ تباہی زرعی شعبے میں ہوئی جہاں 430 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ انفراسٹرکچر کو 307 ارب روپے کی چوٹ پہنچی۔ اس دوران 2 لاکھ 29 ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے اور صرف سڑکوں کے نیٹ ورک کو 187.7 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

صوبائی سطح پر پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جہاں ملکی مجموعی نقصان کا 76.8 فیصد یعنی 631 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس سیلابی تباہی کے باعث مالی سال 2026 کے دوران ملک میں بے روزگاری میں 2 لاکھ افراد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ (معاشی شرح نمو) کا ہدف بھی 4.2 فیصد سے گر کر 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں اس دیرینہ حقیقت کو دہرایا گیا ہے کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں سرِفہرست ہے۔ تاہم، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر اقدامات جاری ہیں؛ جن میں پنجاب کا اے آئی (AI) مانیٹرنگ سسٹم، سندھ کے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، خیبر پختونخوا کے جنگلات کا تحفظ اور بلوچستان کے آلودگی کنٹرول منصوبے شامل ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ سروے اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پاکستان کو معاشی بقا کے لیے موسمیاتی لچک (Climate Resilience) کو اپنی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

سیلاب 2025: نقصانات کے اہم اعداد و شمار ایک نظر میں

متاثرہ شعبہ / زمرہنقصان کا حجم / تعداد
مجموعی مالی نقصان822 ارب روپے
زرعی شعبے کا نقصان430 ارب روپے
انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ)307 ارب روپے
سڑکوں کا نظام187.7 ارب روپے
رہائشی مکانات (نقصانات)91.2 ارب روپے (2 لاکھ 29 ہزار گھر)
صوبہ پنجاب کا نقصان (76.8%)631 ارب روپے
جانی نقصان (جاں بحق افراد)1,039 سے زائد
بے گھر ہونے والے افراد40 لاکھ سے زائد
متوقع نئی بے روزگاری (مالی سال 2026)2 لاکھ افراد
جی ڈی پی گروتھ میں متوقع کمی4.2% سے کم ہو کر (3.5% سے 3.9%)