قانون میں ترمیم کی وجہ سےخیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہونے کا خدشہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام سے متعلق صوبائی حکومت کی حالیہ قانونی ترمیم مسترد کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی ترامیم آئینی تقاضوں اور انتخابی قوانین سے متصادم ہیں جس سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ولیج کونسل کی آبادی کی حد 30 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار کرنا آئین کے منافی ہے۔

مراسلے میں زور دیا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں کا اختیار اور ان کا حجم متعین کرنا صرف الیکشن کمیشن کا آئینی حق ہے اور اس پر کسی قسم کا قانونی دباؤ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

الیکشن کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ ان ترامیم کی وجہ سے کونسلوں کی موجودہ تعداد کے حوالے سے شدید قانونی پیچیدگیاں جنم لے رہی ہیں جس سے انتخابی عمل التوا کا شکار ہونے کا قوی خدشہ ہے۔