امن و احتساب کے متلاشی پشتون!

ڈاکٹر خان زیب برکی

رواں ماہ جنوبی وزیرستان کے علاقے کانیگرم میں دو افسوسناک واقعات پیش آئے۔ پہلے واقعے میں ایک شخص کو مبینہ طور پر طالبان کی جانب سے فوج کو سامان پہنچانے کے الزام میں اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اگلے ہی روز ایک دوسرے واقعے میں ایک فوجی کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک سابق ہیڈماسٹر اپنے گھر میں جاں بحق ہوئے جبکہ تین بچے زخمی ہوئے۔

یہ محض دو الگ الگ واقعات نہیں، بلکہ اس وسیع انسانی المیے کی جھلک ہیں جو کئی برسوں سے خیبر پختونخوا، خصوصاً جنوبی اضلاع اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام بھگت رہے ہیں۔ یہاں طالبان ہوں، امن کمیٹیاں ہوں یا ریاستی سیکیورٹی فورسز، مختلف اوقات میں طاقت کے استعمال کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں نے اٹھایا ہے—وہ لوگ جو نہ جنگ کا حصہ ہیں اور نہ ہی بدامنی کے ذمہ دار۔ اس جنگ کا اصل میدان عوام کی بستیاں، گھر، بازار اور روزمرہ زندگی بن چکی ہے۔ طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بھی شہری آبادی متاثر ہوتی ہے اور حکومت کے خلاف کارروائیوں میں بھی؛ یعنی طالبان گروہ کسی سکول یا ہیلتھ یونٹ وغیرہ کو نشانہ بناتے ہیں، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو پہنچتا ہے اور ان کے بچے تعلیم یا علاج کی سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اس خطے میں اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح جھڑپوں میں شہریوں کی ہلاکتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ بعض اوقات فوجی کارروائیوں یا ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد کو “کولیٹرل ڈیمیج” قرار دے دیا جاتا ہے، جبکہ طالبان مبینہ جاسوسی کے الزامات پر افراد کو اغوا کر کے ان کا قتل عام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شام ڈھلتے ہی خوف کا ماحول روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لوٹ مار، بھتہ خوری اور عدم تحفظ نے لوگوں کی معاشی اور سماجی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

اس صورتحال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا طاقت یا بندوق کے استعمال پر کسی مؤثر احتساب کا وجود ہے؟ عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ گویا ہر فریق کو “لائسنس ٹو کِل” حاصل ہے، جس کے تحت وہ اپنی تشریح کے مطابق کارروائی کرتا ہے اور پھر کسی جوابدہی کے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی بے گناہ شہری کی جان جاتی ہے تو شفاف تحقیقات، ذمہ داری کے تعین اور انصاف کی فراہمی کے واقعات نہایت کم نظر آتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہ ہو۔ پاکستان کا آئین شہریوں کو زندگی، آزادی اور منصفانہ قانونی تحفظ کا حق دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی کسی بے گناہ انسان کی جان لینا سخت جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ پشتون ثقافت میں جرگہ، مشاورت، انسانی تقدس اور انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کسی شخص پر سنگین الزام بھی ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی، شفاف تحقیقات اور منصفانہ عدالتی عمل ناگزیر ہے۔ بغیر کسی عدالتی یا قانونی طریقۂ کار کے کسی کی جان لینا یا اسے اغوا کرنا نہ قانون سے مطابقت رکھتا ہے، نہ اسلامی اصولوں سے اور نہ ہی مقامی سماجی اقدار سے۔ تاہم بدقسمتی سے مختلف فریقین ان اصولوں سے ماورا دکھائی دیتے ہیں، اور احتساب، مذہبی اخلاقیات اور سماجی اقدار کی پاسداری سے خود کو آزاد تصور کرتے ہیں، جو اس بدامنی کا بنیادی سبب ہے۔

دوسرا المیہ یہی ہے کہ عام عوام اس تنازعے کے فریق نہیں ہیں۔ انہوں نے نہ یہ جنگ شروع کی اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل کیا۔ اس کے باوجود ہر سانحے کی قیمت انہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، روزگار، نفسیاتی سکون اور مستقبل کو مسلسل عدم تحفظ کے سائے میں دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود یہی عوام ہر سانحے کے بعد انسانیت کا سب سے روشن کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

اگر سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہو جائے تو زخمی اہلکاروں کو پانی پلانے، ابتدائی طبی امداد دینے اور محفوظ مقام تک پہنچانے والے یہی مقامی لوگ ہوتے ہیں۔ اگر کسی امن کمیٹی کے رکن کو قتل کیا جائے تو اس کی تدفین میں بھی یہی لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اگر کسی طالبان رکن کی لاش ملتی ہے تو کفن اور تدفین کا انتظام بھی یہی عوام کرتے ہیں۔ یعنی ہر فریق کے غم میں شریک ہونے والے یہی لوگ خود سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بندوق کے زور پر قائم کیا جانے والا امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔ عسکری طاقت وقتی خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف انصاف، قانون کی حکمرانی، جوابدہی، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔ دنیا کے تنازعات کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ جہاں شہریوں کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا، وہاں تشدد نئے روپ میں دوبارہ جنم لیتا رہا۔

پشتون عوام کی خواہش نہ جنگ ہے اور نہ وہ تشدد کے حامی ہیں۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انہیں محفوظ زندگی دی جائے، ان کی جان، عزت اور مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اگر کسی فرد پر الزام ہو تو اس کے خلاف قانون (ملکی، اسلامی یا سماجی اقدار) کے مطابق کارروائی کی جائے، آزاد اور شفاف تحقیقات ہوں، اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ کسی بھی شخص کو بغیر منصفانہ سماعت اور کارروائی کے قتل یا اغوا نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں علاقائی سماجی و سیاسی رہنماؤں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔

ریاستی اداروں، مسلح امن کمیٹیوں اور طالبان گروہوں کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ جن عوام کو وہ اپنے اقدامات سے نقصان پہنچاتے ہیں، وہی عوام ہر بحران یا حملے کے بعد زخمیوں کی مدد کرتے ہیں، لاشوں کو دفناتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے عوام انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی کی امیدیں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی یہی خواہش ہے کہ انہیں امن کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔ ایک مہذب ریاست اور ذمہ دار معاشرے کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کو بھی قانون، انصاف اور انسانی وقار کا مکمل تحفظ فراہم کرے۔