جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت یاسر محسود کی مبینہ گمشدگی اور اغوا کے معاملے پر ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں فاٹالویہ جرگہ کی سربراہی میں محسود اور آفریدی قبائل کے مشران کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ہے.
جرگے میں محسود اور آفریدی قبائل کے مشران، فاٹا لویہ جرگہ کے عمائدین اور مغوی کے اہل خانہ نے شرکت کی ہے۔
چیئرمین فاٹا لویا جرگہ حاجی بسم اللہ خان آفریدی کے حجرے میں منعقدہ اس جرگے میں مغوی کے خاندان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معروف قومی کرکٹر شاہد خان آفریدی کے بھائی طارق آفریدی نے یاسر محسود کو پشاور یونیورسٹی روڈ پر واقع ان کے دفتر سے مبینہ طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے جس کی وجہ سے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق یاسر محسود اور طارق آفریدی کے درمیان ایک کاروباری تنازع موجود تھاجس کے حل کے لیے ماضی میں بھی ایک جرگہ منعقد ہوا تھا اور اس کے فیصلے پر بڑی حد تک عمل درآمد بھی کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود اب مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یاسر محسود کو لاپتہ کیا گیا ہے۔
محسود قبائل کے مشران اور مغوی کے خاندان نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قانونی، آئینی اور قبائلی مروجہ طریقے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ یاسر محسود کو فوری اور محفوظ طور پر بازیاب کرایا جائے۔
دوسری جانب فاٹا لویہ جرگہ کے مشران اور آفریدی قوم کے عمائدین نے اس معاملے پر محسود قبائل سے مزید وقت طلب کر تے ہوئےکہا کہ وہ معروف کرکٹر شاہد خان آفریدی، طارق آفریدی اور ان کے دیگر قریبی رشتہ داروں سے رابطہ قائم کرکے اس معاملے پر ان کا مؤقف معلوم کریں گے، جس کے بعد ہی آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی۔
جرگے کے شرکاء نے عزم ظاہر کیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
جرگے کے اختتام پر قبائلی مشران نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور مغوی کی جلد بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔
واضح رہے کہ طارق آفریدی یا شاہد خان آفریدی کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے اور یہ خبر جرگے میں پیش کیے گئے دعوؤں پر مبنی ہے۔









