آتش محسود
جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل تیارزہ میں تیارزہ ٹو فقیر راغزائی روڈ کا منصوبہ گزشتہ کئی ماہ سے شدید بحث اور تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔
32 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اس اہم ترقیاتی منصوبے میں شفافیت کے فقدان اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ منصوبے کے لیے مختص فنڈز میں سے تقریباً 18 کروڑ روپے کے اخراجات سرکاری کاغذات میں ظاہر کیے جا چکے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق سڑک پر اب تک بمشکل 50 لاکھ روپے مالیت کا کام نظر آتا ہے، جس نے منصوبے کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
مقامی آبادی نے اس مبینہ بدعنوانی کا ذمہ دار سابق ٹھیکیدار عبداللہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سابق ایکسین اکرام اللہ وزیر کو قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے نہ صرف قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا بلکہ یہ منصوبہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
اہالیان علاقہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے اس معاملے پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر ایکشن نہیں لیا گیا۔ حکام کی خاموشی اور کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے انتظامی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور علاقے میں بے چینی کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب موجودہ ایکسین زاہد محمود بیٹھنی نے مذکورہ سڑک پر تعمیراتی کام کا دوبارہ آغاز کروا دیا ہے جسے عوامی سطح پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم عوام کا موقف ہے کہ صرف نئے کام کا آغاز کافی نہیں بلکہ ماضی میں ہونے والے مالی معاملات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنا بھی انتہائی ناگزیر ہے۔
علاقے کے سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام اور محکمہ اینٹی کرپشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شفاف احتساب نہ ہوا تو وہ وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔









