شمالی وزیرستان ،تحصیل شیواہ سے سینکڑوں خاندانوں کی نقل مکانی

شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث مقامی آبادی کا بڑے پیمانے پر انخلاء شروع ہو گیا ہے۔

دروزندہ، عالم خیل، ملوخیل اور اینار خیل جیسے دیہات مکمل طور پر خالی ہونے کے بعد اب ملحقہ علاقوں سے بھی آبادی کا انخلاء تیزی سے جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق خوف و ہراس کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور پشاور جیسے نسبتاً محفوظ اضلاع کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق گلیوں میں ہو کا عالم ہے اور گھروں کو تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ مال مویشی کی دیکھ بھال کے لیے صرف چند افراد پیچھے رہ گئے ہیں۔

تاریخی طور پر پرامن رہنے والی تحصیل شیواہ جو اپنی زراعت اور قبائلی ہم آہنگی کے لیے مشہور تھیگزشتہ ایک سال سے ٹارگٹ کلنگ، کواڈ کاپٹر حملوں اور عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بازار بند ہو چکے ہیں اور بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہے۔ رہی سہی کسر دریائے کرم پر واقع اہم پل کی تباہی نے پوری کر دی ہے جس سے نہ صرف آمد و رفت معطل ہوئی بلکہ عدم تحفظ کے احساس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے کابل خیل قوم کے مشران اور دیگر قبائلی رہنماؤں نے سیکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم جرگہ کیا، جس میں عوامی تحفظ پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا۔ قبائلی مشران نے مطالبہ کیا کہ یا تو فی الفور امن بحال کیا جائے یا واضح لائحہ عمل دیا جائے تاکہ عوام کا تحفظ یقینی ہو۔

سیکیورٹی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا کر جامع حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

دوسری جانب متاثرہ عوام اور مشران نے خالی کردہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن کی مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی باوقار واپسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں