خادم خان آفریدی/ بینظیر روؤفی
جب نور محمد افغان نے اپنے خاندان کے ساتھ طورخم بارڈر عبور کیا تو ان کے ہاتھ میں چند بیگ تھے، مگر دل میں کئی سوالات، پاکستان میں گزرے برسوں کی یادیں ان کے ساتھ تھیں، جبکہ افغانستان میں ایک نئی زندگی ان کی منتظر تھی۔ یہ واپسی صرف ایک سرحد پار کرنے کا سفر نہیں تھا بلکہ دوبارہ گھر بسانے، روزگار تلاش کرنے اور مستقبل سنوارنے کی کوشش کا آغاز بھی تھا۔
افغانستان کے صوبہ لوگر سے تعلق رکھنے والے نور محمد نے بتایا کہ وطن واپس پہنچنے کے بعد انہیں عارضی رہائش کے لیے خیمہ اور خوراک فراہم کی گئی، ان کے مطابق حکام نے ان کا سروے مکمل کر لیا ہے اور مستقل رہائش کے لیے زمین فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ہمیں خیمہ اور خوراک دی گئی ہے۔ زمین کی فراہمی کے لیے کارروائی جاری ہے اور حکام نے کہا ہے کہ جلد زمین فراہم کی جائے گی۔

نور محمد اکیلے نہیں،وہ ان لاکھوں افغان شہریوں میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں پاکستان سے افغانستان واپس گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھ ایک الگ کہانی، الگ خواب اور الگ خدشات لے کر وطن لوٹا ہے۔
لاکھوں افغان مہاجرین کا مشترکہ سفر
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان قیصر آفریدی کے مطابق 2023 سے اب تک تقریباً 25 لاکھ افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں سے قریباً ڈھائی لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا۔
عالمی تنظیم برائے مہاجرت )آئی او ایم( کی تازہ رپورٹ کے مطابق واپس جانے والوں میں 19 لاکھ 12 ہزار 939 افراد، یعنی 77 فیصد نے رضاکارانہ یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر وطن واپسی اختیار کی، جبکہ 3 لاکھ 34 ہزار 929 افراد رضاکارانہ واپسی کے انتظامات کے تحت گئے۔ دوسری جانب 2 لاکھ 52 ہزار 844 افراد، یعنی تقریباً 10 فیصد، کو ڈیپورٹ کیا گیا .

یکم اپریل 2025 سے اب تک 16 لاکھ 46 ہزار 679 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں، سال 2025 اس عمل کا سب سے تیز رفتار سال رہا، جب 11 لاکھ 25 ہزار 946 افراد افغانستان لوٹے، جبکہ رواں سال یکم جنوری سے13 جون تک مزید 5 لاکھ 68 ہزار 775 افغان مہاجرین اپنے وطن جا چکے ہیں.
رپورٹ کے مطابق بے دستاویز افراد اور افغان شہریت کارڈ رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے گرفتاری کے خوف کو واپسی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جبکہ اندراجی سند رکھنے والوں میں سے 64 فیصد نے بھی یہی وجہ بیان کی۔
کوئٹہ، نوشہرہ، ہری پور، پشاور، اٹک، اسلام آباد اور راولپنڈی وہ شہر رہے جہاں سے سب سے زیادہ افراد روانہ ہوئے، جبکہ ننگرہار، کابل، قندوز، قندھار،بغلان ، لوگر، بلخ اور پکتیا وہ مقامات ہیں جہاں اب سب سے زیادہ نئی آبادکاری ہو رہی ہے۔
سرحد پار پہلی منزل امداد اور عارضی سہارا
نور محمد جیسے خاندانوں کے لیے افغانستان پہنچنے کے بعد پہلا مرحلہ بنیادی ضروریات کا حصول ہوتا ہے۔طورخم کے قریب قائم عمری کیمپ میں روزانہ سینکڑوں خاندان پہنچتے ہیں۔
ِ افغان سماجی شخصیت احسان اللہ افغان کے مطابق یہاں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، ودان افغانستان اور شپول جیسی فلاحی تنظیمیں خوراک،پانی،
بنیادی ضروریات اور بعض صورتوں میں نقد امداد بھی فراہم کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلال آباد میں قائم دفاتر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں جبکہ واپس آنے والوں کا باقاعدہ سروے کیا جاتا ہے تاکہ ان کی ضروریات کے مطابق مدد فراہم کی جا سکے۔
ِ پاکستان کی جانب سے بھی اس عمل کو منظم بنانے کے لیے انتظامات موجود ہیں۔ قیصر آفریدی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے رضاکارانہ واپسی کے لیے نوشہرہ اور کوئٹہ میں مراکز قائم کر رکھے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے لنڈی کوتل ہولڈنگ کیمپ اور ناصر باغ مراکز کے ذریعے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور پروسیسنگ کا عمل جاری ہے۔
خیمے سے مستقل گھر تک
نور محمد کے لیے اب سب سے بڑا سوال مستقل رہائش کا ہے۔افغانستان کے عبوری حکومت کے رکن ابراہیم حقانی کے مطابق افغان طالبان نے واپس آنے والے خاندانوں کی آبادکاری کے لیے زمینوں کی تقسیم کاباقاعدہ نظام وضع کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی بزرگوں کی تصدیق کے بعد مستحق خاندانوں کو اراضی فراہم کی جاتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں مالی طور پر کمزور خاندانوںکے لیے تیار شدہ گھر بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔
احسان اللہ افغان کے اندازے کے مطابق واپس آنے والے تقریباً نصف خاندانوں کو زمین فراہم کی جا چکی ہے جبکہ باقی خاندانوں کے لیے سروے اور جانچ پڑتال جاری ہے۔ تاہم وہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرتے کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی یکمشت واپسی نے حکومت اور امدادی اداروں کے لیے متعدد انتظامی اور مالی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
ابراہیم حقانی نے کہاکہ پاکستان نے ہمارے شہریوں کو طویل عرصے تک پناہ دی، جس پر ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ واپس آنے والے خاندانوں کو باعزت طریقے سے آباد کریں۔
صرف امداد نہیں، روزگار بھی
اگر نور محمد کے لیے سب سے اہم سوال رہائش کا ہے تو عمران کے لیے روزگار کی بحالی بنیادی چیلنج تھا۔ماضی میں ایبٹ آباد میں موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ عمران نے افغانستان واپسی کے بعد دوبارہ یہی کاروبار شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں مشکلات ضرور پیش آئیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات بہرت ہونا شروع ہو گئے۔
ان کے کئی دوست بھی پاکستان سے واپس آئے ہیں اور سب نے مل کر ایک مشترکہ موبائل مارکیٹ قائم کی ہے جہاں موبائل فون کی خرید و فروخت جاری ہے۔
عمران نے کہاہم سب نے مل کر دوبارہ کاروبار شروع کیا ہے۔ ابھی مشکلات ہیں لیکن حالات پہلے سے بہتر ہیں اور لوگ نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق افغانستان میں مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور بہت سے لوگ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عمران کی کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پائیدار آبادکاری صرف امداد سے ممکن نہیں بلکہ روزگار اور معاشی مواقع اس کا لازمی حصہ ہیں۔
قیصر آفریدی بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بے روزگاری نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خاندانوں بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
وہ سوالات جو ابھی باقی ہیں
اگرچہ بہت سے خاندان نئی زندگی کی تعمیر میں مصروف ہیں، لیکن ہر کسی کے لیے واپسی کا سفر یکساں نہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی ممبر فوزیہ بی بی کے مطابق سیاسی پناہ کے متلاشی افراد، افغان خواتین اور ایسے خاندان جو پاکستان میں اپنا کاروبار اور روزگار چھوڑ کر جا رہے ہیں، اب بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق کئی افراد اپنے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر ہیں اور افغانستان واپسی کو محفوظ راستہ نہیں سمجھتے۔
فوزیہ بی بی کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی مواقع کے حوالے سے اضافی مشکلات درپیش ہیں اور ان کے معاملات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کے خواب اور غیر یقینی مستقبل
ِ افغان طلبہ تنظیم کے صدر فضل افغان کے مطابق پاکستان کی جامعات میں زیر تعلیم ہزاروں افغان طلبہ اپنی قانونی حیثیت اور تعلیمی مستقبل کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے طلبہ اپنی ڈگریوں کے آخری مراحل میں ہیں اگر انہیں تعلیم مکمل کرنے کا موقع نہ ملا تو ان کی کئی سال کی محنت اور مالی وسائل ضائع ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اندراجی دستاویزات کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد متعدد طلبہ کو رجسٹریشن اور تعلیمی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومتی مؤقف حاصل نہ ہو سکا
ِ ان خدشات کے تناظر میں ملک کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم افغان طلبہ اور سیاسی پناہ کے متلاشی افغان شہریوں کو درپیش مسائل اور ان کے مستقبل سے متعلق حکومتی مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے حکومتی نمائندوں تک رسائی حاصل کرنے اور ان کا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک کسی بھی متعلقہ ادارے یا حکومتی نمائندے کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہو سکا۔
افغان طلبہ اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکارہیں، جبکہ بعض افراد افغانستان واپسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف سامنے نہ آنے کے باعث ان معاملات پر سرکاری پالیسی اور آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں، جس سے متاثرہ افراد میں بے یقینی برقرار ہے۔
ماہرین اور طلبہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ طلبہ اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے حوالے سے واضح پالیسی اور بروقت سرکاری رہنمائی نہ صرف غیر یقینی صورتحال کم کر سکتی ہے بلکہ متاثرہ افراد کو اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
جب مقامی لوگوں نے ہاتھ بڑھایا
سرحد کی دونوں جانب صرف ادارے ہی سرگرم نہیں بلکہ مقامی لوگ بھی اس انسانی صورتحال میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
فیصل اسلام ویلفیئر فاؤنڈیشن کے سربراہ اسلام بادشاہ آفریدی کے مطابق ان کی تنظیم سرحد پر موجود خاندانوں کو خوراک، پانی، کپڑے اور عارضی رہائش فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات سرحدی رش اور بندش کے باعث خاندانوں کو ہولڈنگ کیمپوں میں طویل وقت گزارنا پڑتا ہے، جس دوران مقامی افراد اپنے گھر اور گودام تک عارضی رہائش کے لیے فراہم کرتے ہیں۔
انہوں
نے کہا”ہم روزانہ درجنوں دیگیں کھانا، صاف پانی اور ضروری اشیاء فراہم کرتے ہیں، جبکہ بچوں اور خواتین کے لیے کپڑوں کا بھی انتظام کیا جاتا ہے”۔
واپسی کے عمل کو منظم بنانے کی کوششیں تیز کرنے فیصلہ
خیبرپختونخوا حکومت نے بھی اس عمل کو مزید بہتر اور تیز کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا ہے معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت کی زیر صدارت اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ آئندہ 30 سے 45 دنوں میں اس عمل کو مکمل کیا جائے، ان کے مطابق پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور ہنگو میں قائم عارضی کیمپ فعال ہیں جبکہ زیر التوا ویزا اور قیام کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ِ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورے عمل کے دوران انسانی وقار، عزت نفس اور بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔
نئی زندگی کی تعمیر ابھی باقی ہے
آج نور محمد اپنی زمین کے الاٹمنٹ کے منتظر ہیں جبکہ عمران اپنی نئی منڈی میں کاروبار کو مزید وسعت دینے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
ان دونوں کی کہانیاں لاکھوں افغان خاندانوں کے مشترکہ سفر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک ایسا سفر جو صرف سرحد عبور کرنے کا نام نہیں بلکہ مستقل رہائش، روزگار، تعلیم اور باوقار زندگی کی تلاش کا سفر بھی ہے۔
اعدادوشمار لاکھوں افراد کی نقل مکانی کی تصویر پیش کرتے ہیں، مگر نور محمد اور عمران یاد دلاتے ہیں کہ ہر فرد کے پیچھے ایک خاندان، ایک خواب اور ایک نئی شروعات کی کہانی موجود ہے۔
خیمے سے مستقل گھر تک، امداد سے روزگار تک، اور غیر یقینی صورتحال سے استحکام تک کا یہ راستہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ آنے والے مہینے یہ طےکریں گے کہ وطن واپسی صرف نقل مکانی ثابت ہوتی ہے یا واقعی ایک باوقار، مستحکم اور پائیدار نئی زندگی کی بنیاد بنتی ہے۔










