اسلام آباد میں نیوروسرجری کا تاریخی سنگِ میل،پہلی بار پرکیوٹینیئس ٹرانس پیڈیکیولر فکسیشن سرجری کامیابی سے مکمل

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیوروسرجری کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں معروف نیوروسرجنز ڈاکٹر محمد نواز آفریدی اور ڈاکٹر احسان مروت نے پہلی بار پرکیوٹینیئس ٹرانس پیڈیکیولر فکسیشن (ریڑھ کی ہڈی کی پیچ کے ذریعے فکسیشن) کامیابی کے ساتھ انجام دے دی ہےجسے ریڑھ کی ہڈی کے مریضوں کے لیے ایک بڑی طبی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کی فکسیشن ایک پیچیدہ آپریشن ہوتا ہے جو شدید کمر درد، سلپ ڈسک اور ریڑھ کی ہڈی کے عدم استحکام کے شکار مریضوں میں کیا جاتا ہے۔ روایتی طریقہ علاج میں کمر پر بڑا چیرا لگایا جاتا ہے، پٹھوں کو کاٹا جاتا ہے اور بعض اوقات ہڈی کو بھی متاثر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث زیادہ خون ضائع ہوتا ہے، مریض کو شدید درد برداشت کرنا پڑتا ہے اور صحت یابی میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔

تاہم جدید پرکیوٹینیئس ٹرانس پیڈیکیولر فکسیشن میں صرف ایک انچ کے چھوٹے چیرے کے ذریعے بغیر پٹھے کاٹے اور بغیر ہڈی کو نقصان پہنچائے ریڑھ کی ہڈی کو فکس کیا جاتا ہے۔ جدید امیج گائیڈڈ ٹیکنالوجی اور اینڈوسکوپک آلات کی مدد سے یہ آپریشن انتہائی درستگی کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید طریقہ علاج سے سرجری کے بعد پیچیدگیوں میں نمایاں کمی، انفیکشن کے کم امکانات اور مریض کی تیز رفتار بحالی ممکن ہوتی ہے۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار سے مریض روایتی آپریشن کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد جلد صحت یاب ہوتے ہیں۔

اس جدید سرجری کے نمایاں فوائد میں ٹشوز کو کم نقصان، خون کے ضیاع میں کمی، ہسپتال میں صرف ایک دن قیام، چند گھنٹوں میں مریض کی نقل و حرکت، کم ادویات اور کم درد شامل ہیں۔

نیوروسرجن ڈاکٹر محمد نواز آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان میں عالمی معیار کی جدید نیوروسرجری متعارف کروائی جائے تاکہ مریضوں کو محفوظ، مؤثر اور جدید علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور آسان بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں اس کامیاب سرجری کا انعقاد اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بھی عالمی معیار کی طبی سہولیات دستیاب ہیں، جو نیوروسرجری کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت