اسلام آباد: حکومت پاکستان نے وزارت قانون و انصاف کی سینئر کنسلٹنٹ اور انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) کی پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول کو عوامی خدمت، قانونی و عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی قانونی سفارت کاری میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ سول اعزاز ستارۂ امتیاز سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والی عائشہ رسول نے قانونی تعلیم، تحقیق، عدالتی استعداد کار، پالیسی سازی اور اصلاح نظام انصاف کے شعبوں میں کئی برس خدمات انجام دی ہیں۔ وزارت قانون و انصاف کے تحت مختلف قانونی اصلاحاتی اقدامات، ادارہ جاتی ترقی اور کیس اسائنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سسٹم (CAMS) جیسے ڈیجیٹل منصوبوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔
عائشہ رسول نے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد اور خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور سمیت عدالتی تربیت اور تحقیق کے اداروں میں بھی خدمات انجام دیں۔ عدالتی تربیت، تحقیقی کلچر اور ڈیجیٹل لرننگ کے فروغ کے ساتھ وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے تحقیقی جریدے کو جدید تحقیقی معیارات، ISSN اور DOI سے منسلک کرنے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔
بین الاقوامی سطح پر عائشہ رسول نے پاکستان کی قانونی سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور عالمی قانونی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن (IOMed) کے قیام کے عمل اور متعلقہ ورکنگ گروپ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور بین الاقوامی ثالثی کے نئے عالمی فریم ورک سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا۔
مئی 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایڈوانسڈ ٹریٹی پریکٹس اور انٹرنیشنل ٹریٹی ڈرافٹنگ ٹریننگ پروگرام میں بھی ان کا اہم کردار رہا، جس میں آذربائیجان، بنگلہ دیش، چین، پاکستان اور ترکیہ کے شرکاء نے شرکت کی۔
جولائی 2026 میں باکو، آذربائیجان میں پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے تحت ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام ’’دی جوڈیشل کرافٹ‘‘ کا انعقاد بھی کیا گیا۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اور قانونی ماہرین پر مشتمل وفد کی شرکت سے ہونے والے اس پروگرام کی منصوبہ بندی اور عملی نفاذ میں عائشہ رسول نے کلیدی کردار ادا کیا۔
آئی ایم اے سی کی پراجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے عائشہ رسول نے متبادل تنازعات کے حل، میڈی ایشن اور آربیٹریشن کے فروغ کیلئے بھی کام کیا۔ انہوں نے مقدمات کے طویل التوا، عدالتی اخراجات اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے تناظر میں تنازعات کے تیز، مؤثر اور کم لاگت حل کیلئے پالیسی سازی، تربیتی پروگراموں اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کو آگے بڑھایا۔
عائشہ رسول نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی خدمت اور بالخصوص مستحق اور محروم بچوں کی تعلیم کیلئے بھی کام کیا اور مختلف اداروں کے تعاون سے تعلیمی مواقع، وظائف اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کیلئے اقدامات میں حصہ لیا۔
جنوبی وزیرستان سے قومی اداروں اور بین الاقوامی قانونی و عدالتی فورمز تک عائشہ رسول کا سفر قانون، انصاف اور عوامی خدمت کے شعبوں میں ان کی خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کیلئے ستارۂ امتیاز کا اعلان بالخصوص نوجوان خواتین اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی نئی نسل کیلئے ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیا جا رہا ہے۔







