جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکزی شہر وانا بازار میں پیر کے روز ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں قبائلی رہنما اور چیف آف احمد زئی ملک محمد طارق یارگل خیل سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً نو بجے وانا بازار گلشن مارکیٹ میں اس وقت پیش آیا جب قبائلی رہنما ملک محمد طارق یارگل خیل اپنی گاڑی سے نیچے اتر رہے تھے۔ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ ملک طارق وزیر، سرفراز اور عبدالجبار موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ وہاں موجود دیگر تین افراد سکندر، سید انور اور عمر شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا منتقل کیا جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاہم اسپتال انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں وانا بازار اور اطراف کے علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کاروباری مراکز بند ہو گئے۔
پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کر دیا ہے اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اب تک ضلعی انتظامیہ یا سیکیورٹی حکام کی جانب سے دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔








