مولانا شیخ ادریس پر حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کر لی

شدت پسند گروہ ’داعش‘ (اسلامک اسٹیٹ خراسان) نے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق نائب اسپیکر مولانا شیخ محمد ادریس کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے ارکان نے منگل کی صبح اتمانزئی کے مقام پر مولانا کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

داعش خراسان کے بیان میں مولانا ادریس کو ’حکومت نواز‘ قرار دیا گیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں مولانا شیخ ادریس جاں بحق، جبکہ ان کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ مولانا ادریس جے یو آئی (ف) کے ضلعی سرپرستِ اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی سیاست میں بھی فعال رہے ہیں اور وہ شدت پسندی کے خلاف اپنے دو ٹوک موقف کی وجہ سے معروف تھے۔

واقعے کے بعد پولیس نے پہلے ہی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں