ہیجانی کیفیت میں مبتلا آج کا تعلیم یافتہ نوجوان

حمید وصال

آج کا دور ترقی، معلومات اور تعلیم کے پھیلاؤ کا دور کہلاتا ہے، مگر اس ترقی کے پس منظر میں ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے. آج کا تعلیم یافتہ نوجوان شدید ہیجانی کیفیت، ذہنی اضطراب اور مستقبل کی بے یقینی کا شکار ہے۔ بظاہر ڈگریوں کی کثرت ہے، مگر عملی زندگی میں مواقع کی قلت نے نوجوان نسل کو ایک عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔

چند روز قبل کا ایک واقعہ میرے ذہن میں بار بار تازہ ہو جاتا ہے۔ میں کالج میں موجود تھا اور میرے ہاتھ میں اردو کی کتاب تھی۔ اسی دوران ایک نوجوان میرے پاس آیا جو ایس ایس ٹی (SST) کی تیاری کے لیے ہمارے کالج کے ایک انگریزی استاد سے ٹیوشن پڑھ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا: “آپ یہاں اردو پڑھا رہے ہیں؟” میں نے جواب دیا: “جی ہاں۔” میری بات سن کر اس نے فوراً حسرت بھرے لہجے میں کہا: “کاش ہمیں بھی نوکری مل جائے۔” اس مختصر جملے میں اس نوجوان کی پوری ذہنی کیفیت، اس کی بے چینی، امید اور مایوسی سب کچھ سمٹ آیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خواب بھی تھے اور خوف بھی؛ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مستقبل غیر واضح نظر آ رہا تھا۔

یہ واقعہ دراصل آج کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اجتماعی داستان ہے۔ بے روزگاری اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ نوجوان برسوں محنت کر کے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، مگر ملازمت کے مواقع محدود ہونے کے باعث ان کی صلاحیتیں استعمال ہونے سے پہلے ہی مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔ جب محنت کا صلہ نہ ملے تو انسان کے اندر اضطراب اور ہیجان پیدا ہونا فطری امر ہے۔

اس کے ساتھ بدامنی اور سماجی عدم استحکام بھی نوجوان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مستقبل محفوظ نظر نہ آئے، وہاں نوجوان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے بجائے بقا کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی احساس اسے ذہنی دباؤ اور جذباتی بے چینی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

بدعنوانی بھی اس بحران کا ایک اہم سبب ہے۔ جب میرٹ کے بجائے سفارش اور رشوت کو ترجیح دی جائے تو محنتی نوجوان کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ قابلیت کے باوجود کامیابی اس کی پہنچ سے دور ہے۔ یہ احساسِ محرومی اس کے اندر غصہ، بے اعتمادی اور ہیجانی ردِعمل کو جنم دیتا ہے۔

ناقص نظامِ تعلیم اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام اکثر عملی زندگی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ طلبہ کو ڈگریاں تو ملتی ہیں مگر ہنر، تحقیق اور عملی مہارتیں کمزور رہتی ہیں۔ نتیجتاً تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے، جس کا بوجھ نوجوان کے ذہن پر پڑتا ہے۔

سوشل دباؤ اور معاشرتی توقعات بھی نوجوان کی ہیجانی کیفیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ خاندان اور معاشرہ فوری کامیابی کی امید رکھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کامیابی کا راستہ طویل اور دشوار ہوتا ہے۔ اس تضاد سے نوجوان احساسِ ناکامی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

مختصراً، آج کا تعلیم یافتہ نوجوان علم رکھتا ہے مگر یقین کھوتا جا رہا ہے؛ خواب دیکھتا ہے مگر راستہ دھندلا محسوس کرتا ہے۔ اس کی ہیجانی کیفیت دراصل انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی، معاشی اور تعلیمی نظام کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں، تعلیمی نظام کو عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں کو امید، رہنمائی اور اعتماد فراہم کیا جائے۔ کیونکہ اگر نوجوان پُرامید ہوگا تو معاشرہ مستحکم ہوگا، اور اگر وہ ہیجان اور مایوسی کا شکار رہا تو ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔

اس تحریر کے تخلیق کار حمید وصال درس و تدریس سے منسلک ہیں اور بطور لیکچرر اردو گورنمنٹ ڈگری کالج ٹانک میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں