ہنگو: کمسن بچے کے اغوا ،زیادتی اور قتل کیس کے 2 ملزمان پولیس گاڑی پر فائرنگ میں ہلاک

خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں صدر تھانے کی حدود میں سروزئی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک کمسن بچے کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمے میں زیر حراست دو مرکزی ملزمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہنگو طارق حبیب خان کے مطابق مذکورہ ملزمان کو عدالت میں پیشی کے بعد واپس جیل منتقل کیا جا رہا تھا کہ سروزئی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس وین پر اچانک حملہ کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت دلشاد ولد شریف اور امان اللہ عرف ٹی ٹی پی ولد حمید کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ کانسٹیبل سفیر الرحمن گولی لگنے سے زخمی ہوا اور پولیس گاڑی کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں طبی ذرائع کے مطابق اس کا علاج جاری ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں ملزمان ایک انتہائی سنگین کیس میں نامزد تھے جن پر ایک کمسن بچے کو اغوا کرنے، اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے اور بعد میں اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس اندوہناک واقعے پر علاقے میں شدید عوامی غم و غصہ پایا جا رہا تھا اور مقامی لوگوں سمیت بچے کے لواحقین نے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

ڈی پی او طارق حبیب خان نے بتایا کہ حملے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے مختلف پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ تھانہ ٹل کی حدود محلہ حاجی فقیر گل کا رہائشی گیارہ بارہ سالہ بچہ طفیل محمد شاہ ولد نعیم شاہ مورخہ 29 اپریل 2026 کو اچانک لاپتہ ہو گیا تھا جس کی گمشدگی کی رپورٹ والدین نے اسی روز تھانے میں درج کروائی تھی۔ بعدازاں مورخہ 30 اپریل 2026 کو بچے کی تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاش علاقہ الگڈہ ٹل سے برآمد ہوئی تھی۔