صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ رہا تو این ای سی اجلاس میں بیٹھنا مشکل ہو جائے گا، سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت کو تنبیہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے جس میں عمران خان سے ملاقات کے انتظامات، نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کے اجلاس، صوبے کے مالی حقوق اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے اس موقع پر وفاقی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو صوبائی حکومت کے لیے این ای سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر فیصلوں سے قبل عمران خان سے مشاورت اور ان کی منظوری ناگزیر ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اہم قومی اور سیاسی فیصلوں سے قبل اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی روایت پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومتی ٹیم کو عمران خان سے فوری ملاقات کے انتظامات کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق میں مسلسل کٹوتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص (AIP) کے فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ آٹھ برسوں سے غیر آئینی طور پر روکا جا رہا ہے، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ وفاق کے نمائندوں کے ساتھ ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

ملاقات میں پنجاب سے گندم کی فراہمی، خیبرپختونخوا کے گیس حقوق، پن بجلی منصوبوں اور دیگر بین الصوبائی معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی مجموعی کھپت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود گیس فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینئروں کو تاحال این او سی جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو پھر آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی عملی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔ آئین بین الصوبائی تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی وسائل پر ترجیحی حق کی واضح ضمانت دیتا ہے، لہٰذا اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بس ٹرمینل کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے باعث تاحال فعال نہیں ہو سکا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات، مطالبات اور تجاویز وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔