رہنما پی ٹی ایم علی وزیر ایک دفعہ پھرگرفتار

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مرکزی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کوعدالت کے حکم پر سکھر جیل سے رہائی پانے کے محض چند گھنٹے بعد سندھ پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

ان کے دوست نعیم خان سلیمان خیل کے مطابق پولیس نے سکھر میں علی وزیر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا۔

علی وزیر کو 3 اگست 2024 کو اسلام آباد پولیس نے ایک ٹریفک حادثے کے بعد پمز اسپتال سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد وہ مجموعی طور پر 21 ماہ تک ملک بھر کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔

اس دوران ان کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں متعدد ایف آئی آرز درج کی گئیں اور انہیں کئی بار تھری ایم پی او (نقصِ امن کے قانون) کے تحت نظر بند بھی رکھا گیا۔

طویل قانونی جنگ اور تقریباً دو سال کی قید کے بعد آج جب وہ رہا ہوئے تو عوامی و سیاسی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے علی وزیر کی رہائی طویل قید پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ علی وزیر 21 ماہ تک بے گناہ قید رہے اور متعدد بیماریوں کے باوجود حکومتی فاشزم کے سامنے ثابت قدم رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان رائٹس موومنٹ علی وزیر کی ہمت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی کارکنوں نے علی وزیر کی دوبارہ گرفتاری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت نے رہائی کے احکامات جاری کر دیے تھے تو دوبارہ گرفتاری عدالتی فیصلوں کی توہین اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں