خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر 55 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایک بڑے مالیاتی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صرف ایک ایرانی ڈرون گرانے پر کتنے کروڑ روپے خرچ آتا ہے؟ ہوشربا انکشافات
پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو جواز بنا کر غریب عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن کی ٹیم نے گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز پیش کی تھی جسے صوبائی حکومت نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے کے تقریباً 14 سے 15 لاکھ ایسے شہری جن کے پاس رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں انہیں صوبائی حکومت 2200 روپےکا ریلیف پیکیج فراہم کرے گی۔ یہ رقم دو مساوی اقساط میں دی جائے گی 1100 روپے کی پہلی قسط فوری طور پر جبکہ بقیہ 1100 روپے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق یہ رقم ہر شہری کے لیے تقریباً 40 لیٹر پیٹرول کی اضافی قیمت کے برابر بنتی ہے، جس کی ادائیگی کا بوجھ حکومتِ خیبر پختونخوا خود برداشت کرے گی۔
سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کے دوران وفاقی حکومت کے اہم رہنماؤں بشمول وزیراعظم شہباز شریف، مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ماضی کے بیانات چلا کر ان کے موجودہ طرزِ عمل پر کڑی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ جب ماضی میں پیٹرول محض 12 روپے مہنگا ہوا تھا تو ان جماعتوں نے شدید ردعمل دیا تھا، لیکن اب راتوں رات 55 روپے کا اضافہ کر کے عوام کی زندگی اجیرن بنائی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے اس موقع پر مالیاتی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کو 86 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں لیوی کی مد میں وفاق نے 822 ارب روپے حاصل کیے ہیں اور سال کے اختتام تک یہ رقم 1700 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گندم پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 60 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
عوامی سہولت کے لیے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بی آر ٹی کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی آر ٹی کے بیڑے میں 140 نئی بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جن میں سے 52 تیار ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے مخصوص ‘پنک بسیں’ بھی چلائی جائیں گی تاکہ خواتین کا سفر زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکے۔
حکومتِ خیبر پختونخوا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ تجاویز پر غور کرے گی لیکن کسی بھی ایسے فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی جو عوامی مفاد کے خلاف ہو۔









