خیبرپختونخوا میں سرکاری بھرتیوں کے لیے نئی پالیسی کا نفاذ

حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے ‘انیشیل ریکروٹمنٹ رولز 2026’ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد محکمہ انتظامیہ نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ان نئے رولز کے تحت پورے صوبے کو انتظامی لحاظ سے 6 مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی ملازمتوں کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

نئی پالیسی کے مطابق ہر 30 اسامیوں میں سے 20 فیصد کوٹہ یعنی 6 نشستیں اوپن میرٹ پر پورے صوبے کے لیے ہوں گی، جبکہ بقیہ 80 فیصد یعنی 24 نشستیں زونل کوٹہ کے تحت اضلاع میں تقسیم کی جائیں گی۔

زونل تقسیم کے مطابق زون ون میں قبائلی اضلاع بشمول باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی اور وزیرستان شامل ہیں، جبکہ زون ٹو میں پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ اور صوابی (بشمول گدون) کو رکھا گیا ہے۔

زون تھری میں سوات، ملاکنڈ، دیر اور چترال کے اضلاع شامل ہیں، جبکہ زون فور میں کوہاٹ، بنوں، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع کو جگہ دی گئی ہے۔ زون فائیو میں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور شامل ہیں، جبکہ زون سکس میں کولائی پالس اور گدون جیسے پسماندہ ترین علاقے شامل کیے گئے ہیں۔

ہر 30 اسامیوں کے لیے ایک مخصوص سرکل مقرر کیا گیا ہے تاکہ بھرتیوں کا عمل شفاف رہے۔

نئے قوانین کے تحت میرٹ کے تعین کے لیے ایک ٹھوس فارمولا وضع کیا گیا ہے۔ گریڈ 6 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کے لیے کل 100 نمبر ہوں گے، جن میں سے 70 نمبر تعلیمی قابلیت، 20 نمبر تحریری ٹیسٹ اور 10 نمبر انٹرویو کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

تحریری ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبر لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ملازمتوں کے اشتہارات قومی اخبارات اور سرکاری ویب سائٹس پر دیے جائیں گے جن کے لیے کم از کم 15 دن کی مہلت ہوگی۔ خواتین امیدواروں کی عدم دستیابی کی صورت میں اشتہار تین بار دیا جائے گا اور چوتھی بار یہ نشستیں میرٹ کوٹہ میں منتقل کر دی جائیں گی۔

انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر سلیکشن کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی جو صوبائی، ضلعی اور الحاق شدہ محکموں کی سطح پر کام کریں گی۔ بھرتی ہونے والے امیدواروں کی اسناد کی تصدیق تین ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا، تاہم خصوصی حالات میں اس مدت میں تین ماہ کی توسیع ممکن ہے۔

اس کے علاوہ ہر زون کے لیے ایک ویٹنگ لسٹ بھی برقرار رکھی جائے گی جو تین ماہ تک کارگر ہوگی تاکہ اگر کوئی منتخب امیدوار جوائن نہ کرے تو اگلے امیدوار کو موقع مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں