شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں میرعلی-بنوں روڈ پر مسلح گروہوں نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے درپہ خیل قبیلے کے لگ بھگ 16 افراد کو گاڑیوں سے اتار کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
مقامی اور حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ہرمز، عیسوڑی اور دیگر قریبی علاقوں میں کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا یہ سلسلہ صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو دوپہر ایک بجے تک جاری رہا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے کا تعلق بظاہر قتل یا تشدد کی کسی واردات سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقامی اور قبائلی تنازع کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سے قبل بھی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کئی بار جرگے منعقد ہو چکے ہیں۔
مسلح گروہ کا دعویٰ ہے کہ خوزیازی اور پلنگزئی کے علاقوں میں ان کا اسلحہ ضائع یا ضبط کیا گیا ہے اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ یا تو وہ اسلحہ واپس کیا جائے یا پھر اس کا ہرجانہ ادا کیا جائے جس کے بعد ہی مغویوں کو رہا کیا جائے گا۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے درپہ خیل قبیلے کے مشران نے مقامی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ معاملے کو جرگے کے ذریعے حل کر کے مغویوں کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔








