خیبرپختونخوا حکومت کا سیف سٹی منصوبے کو ضم اضلاع تک توسیع دینے کا فیصلہ

خیبرپختونخووا حکومت نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے سیف سٹی منصوبے کو پشاور سے توسیع دے کر ضم اضلاع اور دیگر اہم شہروں تک پھیلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 5 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پشاور میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام کے لیے 35 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ پشاور سیف سٹی منصوبے کی تکمیل اور توسیع کے لیے مزید 70 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جب کہ منصوبے پر اب تک 2 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جا چکی ہے۔

دہشت گردی اور جرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے منصوبے کے پہلے مرحلے میں جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور کرم کے اضلاع میں سیف سٹی نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے لیے 1 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

دوسرے مرحلے میں خیبر اور باجوڑ اضلاع کو شامل کیا جائے گاجہاں جدید نگرانی اور سکیورٹی نظام کی تنصیب کے لیے 1 ارب 60 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، کوہاٹ، مردان اور سوات میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپےجبکہ کرک اور ٹانک کے لیے 35 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مانسہرہ میں منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے آغاز کے لیے بھی 2 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش بجٹ کا حصہ ہے۔