جنوبی وزیرستان اپر کے مختلف علاقوں میں پراسرار بیماری نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے جس کے باعث اب تک سینکڑوں قیمتی جانور ہلاک ہو چکے ہیں اور مالداروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل لدھا اور سراروغہ کے کئی علاقوں میں یہ مہلک بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے تاہم محکمہ لائیو سٹاک کی مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے باعث تاحال بچاؤ کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں کیے جا سکے۔
کانیگرم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن روئی دار برکی نے اس حوالے سے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر جانور ہلاک ہو رہے ہیں لیکن متعلقہ حکام اس سنگین صورتحال سے بالکل بے خبر بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سراروغہ میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جہاں مال مویشیوں میں پھیلنے والی اس پراسرار بیماری سے اب تک تقریباً 40 گائیں ہلاک ہو چکی ہیں اور متعدد جانور اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
اسحاق شمیرائی نے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ علاقے کے ویٹرنری سنٹر میں عملہ غائب ہے اور صرف روف نامی ایک اہلکار اکیلا ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کی ہلاکت کے باوجود محکمہ لائیو سٹاک نے متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن یا ادویات کی فراہمی کے لیے کوئی طبی ٹیمیں روانہ نہیں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے غریب عوام انتہائی نامساعد حالات میں بڑی محنت سے مال مویشی پالتے ہیں کیونکہ یہی ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے، مگر حکومتی بے حسی نے ان کا یہ اثاثہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
عوام نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال کا فوری نوٹس لیں، ماہرین کی ٹیمیں بھیج کر بیماری کی وجوہات کا تعین کریں اور متاثرہ غریب مالداروں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے معاوضے کا اعلان کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بیماری پورے ضلع کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی جس سے مزید سینکڑوں جانوروں کی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔









