جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل وانا میں چند روز قبل اغوا ہونے والے مقامی فٹبالر سبیل نور کی بحفاظت رہائی کے لیے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کھلاڑیوں، کھیلوں سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سبیل نور کی فوری اور محفوظ بازیابی کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرے کے دوران حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی اور علاقے میں امن و امان کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔
مظاہرے کے بعد شرکاء نے وانا میں منعقدہ ‘وزیرستان قومی امن جرگے’ میں بھی شرکت کی اور جرگے کے عمائدین کے سامنے فٹبالر کے اغوا اور علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اپنے خدشات پیش کیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے نامعلوم مسلح افراد نے فٹبالر سبیل نور کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
اس واقعے پر مقامی کھلاڑیوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ سپورٹس کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو نشانہ بنانا دراصل کھیلوں کے میدانوں اور امن پر حملہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ابتدائی اطلاعات اور شواہد کی بنیاد پر سبیل نور کے اغوا میں ایک کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم تاحال کسی گروپ نے اس کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس پر کوئی باقاعدہ مؤقف سامنے آیا ہے۔






