شمالی وزیرستان،قبائلی رہنما قتل،مقامی قبائل اور مسلح افراد میں‌جھڑپیں‌شروع

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق ہو گئے ہیں جس کے بعد مقامی قبائل اور مسلح افراد میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں.

مقامی ذرائع کے مطابق آج صبح سویرے نامعلوم حملہ آوروں نے ملک سیف اللہ خان داوڑ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی گاڑی میں موجود تھے، حملے کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی درپہ خیل قوم کے مشتعل مسلح افراد اور مسلح افرادکے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جس میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں سے جاری جھڑپوں میں اب تک مزید چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

واقعے کے بعد میرانشاہ بازار سمیت قریبی علاقوں میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں اور لوگ خوف و ہراس کے باعث گھروں میں محصور ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک سیف اللہ داوڑ کی میت کو ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قبائلی مشران پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے، اس سے قبل 26 اپریل کو باجوڑ کے ملک فضل واحد کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں