نقیب محسودقتل کیس، سرینڈر کرنے والے سابق ایس ایچ او سمیت 6 اہلکاروں کی ضمانت منظور

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس میں روپوش رہنے کے بعد سرینڈر کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے ملزمان کو فی کس ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے کیس دوبارہ اوپن ہونے کے بعد ملزمان کو مزید لمبے عرصے تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے استغاثہ کی مزید گواہان پیش کرنے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔

ملزمان کی وکیل فوزیہ متین ایڈووکیٹ کے مطابق کسی بھی گواہ نے یہ بیان نہیں دیا کہ یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

پراسیکیوشن کے مطابق اس مقدمے میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 افسران پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ امان اللہ مروت سمیت 7 اہلکار مفرور تھے جنہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد خود کو قانون کے حوالے کیا تھا۔

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ کیس کے سات مفرور ملزمان میں سے شعیب شوٹر پہلے ہی ضمانت پر تھے جبکہ اب امان اللہ مروت سمیت بقیہ 6 ملزمان کی بھی رہائی کا حکم جاری ہو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں