وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمد سہیل آفریدی نے ہدایت جاری کی ہے کہ ریٹائر ہونے والے یا صوبے سے تبادلہ پانے والے سرکاری ملازمین سے سرکاری رہائش گاہیں فوری طور پر خالی کرائی جائیں اور سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں۔
مراسلے میں تمام محکموں کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ملازمین کے کیسز کا بھی جائزہ لیں جن کے پاس ایک سے زیادہ سرکاری رہائش گاہیں ہیں۔
مراسلے میں خاص طور پر ان معاملات کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جن میں شوہر اور بیوی کو الگ الگ سرکاری گھر الاٹ کیے گئے ہوں۔
پشاور میں ذاتی گھر رکھنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہ حاصل کرنے والے ملازمین سے بھی سرکاری رہائش واپس لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ، پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق، پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی
وزیراعلیٰ نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو گذشتہ دس سال کے دوران خریدی گئی سرکاری گاڑیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو اس ضمن میں باقاعدہ مراسلہ بھیجا جا چکا ہے، کیونکہ بعض ملازمین ریٹائرمنٹ یا تبادلوں کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔









