نصیر اعظم محسود
جنوبی وزیرستان اپر میں سماجی خدمات اور فلاح و بہبود کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے جہاں محسود کی ذیلی قوم درامن خیل ویلفیئر ایسوسی ایشن علاقے کے محروم اور پسماندہ طبقات کے لیے امید کی ایک روشن کرن بن کر ابھری ہے۔
تنظیم کی جانب سے نوجوانوں کی تعلیمی معاونت، غریب اور نادار افراد کی دستگیری، مریضوں کے علاج معالجے میں بھرپور تعاون اور بے روزگار نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بے لوث اور مسلسل مہم جاری ہے جس نے علاقے میں ایک تعمیری انقلاب برپا کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں محسود درامن خیل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین امیر نواز محسود اور وائس چیئرمین جاوید محسود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیم کے اغراض و مقاصد اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ پسماندگی کا اندھیرا ختم کرنے کے لیے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور تنظیم اسی مشن کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔
چیئرمین امیر نواز محسود کا کہنا تھا کہ کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں اور تنظیم کا بنیادی ہدف ان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایسوسی ایشن مستحق طلبہ کی مالی معاونت اور تعلیمی رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقے میں شعور کی نئی شمعیں روشن کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔
وائس چیئرمین جاوید محسود نے کہا کہ صحت اور روزگار کی فراہمی ہمارے فلاحی ایجنڈے کا اہم ترین حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غریب مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھا کر انہیں روزگار کے قابل بنانا تنظیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ہر خاندان خود کفیل ہو سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ درامن خیل ویلفیئر ایسوسی ایشن اپنے محدود وسائل کے باوجود فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گی تاکہ کوئی بھی مستحق فرد مدد سے محروم نہ رہے اور یہ کارواں علاقے کی تعمیر و ترقی میں اپنا تاریخی کردار اسی طرح نبھاتا رہے۔









