محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے نگران دور میں بھرتیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

محکمہ کی جانب سے صوبے کی 18 سرکاری جامعات میں بھرتی کیے گئے 645 ملازمین کو دس روز کے اندر فارغ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ تمام متعلقہ جامعات سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ نگران دور میں کی گئی یہ بھرتیاں قانون کے منافی ہیں اور ان پر بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سلسلے میں خیبر پختونخوا ریموول فرام سروس ایکٹ 2025 کے تحت فوری اور مکمل عملدرآمد کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

نگران دور میں وومن یونیورسٹی مردان میں 140، زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں 120، بونیر یونیورسٹی میں 76، چترال یونیورسٹی میں 63، یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں 54، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 34، باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں 33، انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں 32، سوات یونیورسٹی میں 22، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل میں 15، بنوں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 14، لکی مروت یونیورسٹی میں 11 ملازمین بھرتی کئے گئے تھے۔

اس طرح عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں 9، شہداء آرمی پبلک اسکول یونیورسٹی نوشہرہ میں 8، ہری پور یونیورسٹی میں 6، پشاور یونیورسٹی میں 4 اور پاک آسٹریا یونیورسٹی ہری پور میں 4 ملازمین بھرتی کیے گئے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ کرنے والی جامعات کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں