ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں کے دفاتر کے اچانک معائنوں کے دوران متعدد اداروں میں افسران اور عملے کی غیر حاضری، دفاتر کی بندش اور ناقص کارکردگی سامنے آئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 06 جنوری 2026 کو قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ شہاب احمد خان نے تحصیلدار میرانشاہ غنی رحمان وزیر کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس (فیمیل) شمالی وزیرستان کا اچانک معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) دفتر سے غیر حاضر پائی گئیں جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) سرکاری دورے پر تھیں۔ اس کے علاوہ دفتر کے بیشتر اسٹاف کی بھی غیر حاضری سامنے آئی، جس پر دفتری کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر نے صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔
اسی روز قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ نے تحصیلدار کے ہمراہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) شمالی وزیرستان کا بھی اچانک معائنہ کیا، جہاں بیشتر دفاتر مکمل طور پر بند پائے گئے۔ ایگزیکٹو انجینئر اور تمام سب ڈویژنل افسران غیر حاضر تھے جبکہ دفتر کی حالت نہایت خراب اور ابتر پائی گئی۔
دفاتر میں جالے، گرد و غبار اور گندگی واضح تھی اور سرکاری ریکارڈ بکھرا ہوا اور ناقص حالت میں موجود تھا، جو سرکاری قواعد و ضوابط اور دفتری نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر 07 جنوری 2026 کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) شمالی وزیرستان راحمدللہ نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کا اچانک دورہ کیا۔
معائنے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر، سب ڈویژنل افسر، سینئر کلرک اور سب انجینئر سمیت اہم افسران و عملہ غیر حاضر پایا گیاجس کے باعث دفتر کی مجموعی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حاضری یقینی بنانے اور دفتری امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق فعال کرنے کی ہدایت کی۔
ادھر 06 جنوری 2026 کو ہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) شمالی وزیرستان سمیع اللہ خان نے محکمہ لائیو اسٹاک شمالی وزیرستان کے دفاتر کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران حاضری کی صورتحال غیر تسلی بخش پائی گئی، بیشتر دفاتر بند تھے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک بھی موقع پر موجود نہیں تھے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عملے کی حاضری کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت کی اور سخت تادیبی کارروائی کی وارننگ جاری کی۔
انچارج کو عملے کی مکمل تفصیلات اور مقامی ویٹرنری مراکز کو ادویات کی فراہمی سے متعلق جامع معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کے خلاف تفصیلی رپورٹس مرتب کر کے اعلیٰ حکام کو ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، حاضری اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے سخت اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔









