جنوبی وزیرستان: 13 سالہ بچے کے قتل کا واقعہ،پولیس کا بڑا دعوی

جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل وانا کےعلاقے تنائی میں تیرہ سالہ لڑکے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق عمران کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈی پی او جنوبی وزیرستان لوئر محمد طاہر شاہ کے مطابق تیرہ سالہ عمران کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا اور پولیس ٹیموں کی انتھک محنت کے باعث اس اندوہناک کیس کو تقریباً پچانوے فیصد تک ٹریس کیا جا چکا ہے جس کے بعد بہت جلد تمام ملوث ملزمان کی گرفتاری کی خوشخبری سنائی جائے گی۔

دوسری جانب تھانہ سٹی کے ایس ایچ او عثمان وزیر نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران قتل کیس کے شواہد اکٹھے کرکے اسے ٹیکنیکل بنیادوں پر مکمل طور پر ٹریس کر لیا گیا ہے اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل میں تین ملزمان ملوث تھے جن میں سے ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دیگر دو کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہوتے ہی تمام ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز لاپتہ ہونے والے عمران کی تشدد زدہ لاش جمعرات کو قریبی پہاڑی سے برآمد ہوئی تھی جو روزانہ کی طرح بکریاں چرانے گیا تھا مگر دیر تک واپس نہ لوٹنے پر جب اہل خانہ نے تلاش شروع کی تو اگلے روز اس کی بے دردی سے قتل کی گئی لاش ملی۔

اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اور مقامی افراد سمیت سماجی و سیاسی کارکنوں نے تنائی کے مقام پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں