پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین نے خیبر پولیس پر غیر قانونی طور پر پیسے لینے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
طورخم بارڈر کی جانب سفر کرنے والے ان افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ راستے میں تعینات پولیس اہلکاروں نے ان سے غیر قانونی طور پر نقدی وصول کی ہے۔
مقامی سماجی کارکن اسلام باچا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ان افراد سے خود ملاقات کی ہے جن سے مبینہ طور پر پیسے چھینے گئے۔
اسلام باچا نے یہ معاملہ مقامی پولیس کے اعلیٰ حکام کے سامنے بھی اٹھایا ہے تاکہ ان بدعنوانیوں کا سدِباب کیا جا سکے۔
دوسری جانب مقامی پولیس کی جانب سے ان الزامات پر اب تک کوئی باقاعدہ یا سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً دو ہفتے قبل طورخم کی راہداری افغان مہاجرین کے لیے کھلنے کے بعد سے اب تک 25,500 افغان شہری اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔








