خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے پشاور کور ہیڈکوارٹر میں اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اور کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر ذمہ داران نے سیکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف دفاعِ وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء کی عظیم خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجلاس کے دوران صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آیا ہےجس کے تحت رواں سال پشاور میں پی ایس ایل میچز کے پرامن انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے طے پایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں رائج پولیس اور سول اداروں کے انتظامی ماڈل کو پہلے مرحلے میں وہاں مکمل نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے دائرہ کار کو خیبر، کرم اور اورکزئی جیسے اضلاع تک وسعت دی جائے گی تاکہ وہاں کے انتظامی معاملات کو بھی مثالی بنایا جا سکے۔
تعمیر و ترقی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے وزیراعلیٰ کی زیرِ نگرانی ایک بااختیار ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت کا معائنہ کرے گی۔ اس کمیٹی میں منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ کور کمانڈر، آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری جیسے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے جن کا مقصد ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور مقامی لوگوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اس کے علاوہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے خاندانوں کی آبادکاری اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا بھی اس کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔
اجلاس میں وفاق اور صوبے کے درمیان مثالی ہم آہنگی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ بیانیہ اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے معاشی سرگرمیاں تیز کی جائیں گی، جبکہ سماجی برائیوں جیسے کہ بھتہ خوری، غیر قانونی سمز کا استعمال اور اسمگل شدہ گاڑیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ صوبے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔









