شاکر خان وزیر
شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے خدرخیل مین بازار میں منظور شدہ گورنمنٹ ڈگری کالج کی سائٹ کی مبینہ تبدیلی کے خلاف عوام، طلباء، نوجوانوں اور سول سوسائٹی نے پرامن اور بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈگری کالج کو لانڈ محمد خیل منتقل کرنے کے بجائے ہر صورت تحصیل ہیڈکوارٹر دتہ خیل میں ہی قائم کیا جائے۔
احتجاجی جلسے سے مولانا رحیم اللہ، ملک قسمت خان منظر خیل، ملک سیبات خان، ملک گلوپ خان، ڈاکٹر شفیع اللہ، جنت رحمن، شیر محمد اور ملک میر بات خان سمیت دیگر مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر دتہ خیل ایک مرکزی اور قابلِ رسائی مقام ہے جہاں سے علاقے کے تمام دور دراز دیہات کے طلباء کے لیے آمدورفت انتہائی آسان ہوگی، جبکہ کالج کو لانڈ محمد خیل منتقل کرنے سے پسماندہ علاقوں کے غریب طلباء تعلیمی سفر جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ محض کسی زمین یا عمارت کے انتخاب کا نہیں بلکہ پورے شمالی وزیرستان کی آنے والی نسلوں کے تعلیمی و معاشی مستقبل سے جڑا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد آئینی، پرامن اور جمہوری حدوں میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کے جائز حق کے لیے ہے۔
مظاہرین نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا کہ کالج کی سائٹ کے تعین میں مقامی آبادی، طلباء اور سول سوسائٹی کو آن بورڈ لے کر فیصلوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عوامی خدشات کو دور کرتے ہوئے تعلیمی منصوبے کو عوامی مفاد کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر دتہ خیل ہی میں بنانے کا فوری نوٹس لیا جائے۔











