راولپنڈی پولیس نے معروف ٹاک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گیلامنہ کے قتل کے سنسنی خیز مقدمے کا ڈراپ سین کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور حقیقی بھائی سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایت پر قائم سپیشل ٹیموں نے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فٹیج اور جدید ہیومن انٹیلیجنس ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس اندھے قتل کا سراغ لگایا۔
ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ٹیکسلا پولیس نے تکنیکی شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مقتولہ کے والد فضل اور بھائی بشیر کو شاملِ تفتیش کیاجنہوں نے دورانِ تفتیش اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر عائشہ کو قتل کروانے کا اعتراف کر لیا۔
ملزمان نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس کی پیشہ ورانہ تفتیش کے سامنے ان کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔
گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان میں مقتولہ کا چچا زاد بھائی احسان، والد کا چچا روزی خان اور چچا زاد بھائی کا بیٹا یاسین شامل ہیں۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق قتل کی واردات غیرت کے نام پر کی گئی تاہم مزید تفتیش جاری ہے جس میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔










