کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا 5سالہ ایاز پٹھان بازیاب

سندھ کے ضلع کشمور میں کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پانچ سالہ بچے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایاز پٹھان کو کچے کے ڈاکوؤں نے ایک ماہ قبل اغوا کیا تھا اور بازیابی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈاکوؤں نے بچے کی ویڈیو اہلخانہ کو بھیج کر تاوان ادا نہ کرنے پر اسے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی رہنما اور شہری سندھ حکومت اور پولیس کو ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

جمعے کو بچے کے والد اللہ نور ملاخیل نے عرب خبر رساں ادارے نیوز کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے کندھ کوٹ سندھ میں موٹرسائیکل پر کپڑے بیچنے کا کام کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 14 اپریل کو پانچ سالہ بیٹے کو کندھ کوٹ میں گھر کے قریب سے کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا اور ایک کروڑ روپے تاوان مانگا

اللہ نور نے بتایا کہ ’میں غریب شخص ہوں اتنی رقم زندگی بھر میں دیکھی نہیں اس لیے اتنی بڑی رقم کا بندوبست ناممکن تھا۔ جرگے کیے اور قران لے جا کر ڈاکوؤں سے اپیل کی لیکن وہ تاوان کی ادائیگی کے بغیر بچے کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔‘

اللہ نور کے بقول اس سے پہلے کئی بار پولیس سے درخواست کی مگر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی جب ویڈیو وائرل ہوئی تو کوئٹہ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی سمیت ملک بھر سے لوگوں نے رابطے کیے۔

کوئٹہ کے ملاخیل قبائل نے جرگہ کرکے بچے کی عدم بازہابی کی صورت میں قبائلی لشکر کے ساتھ کچے کے علاقے جانے کی دھمکی دی تھی۔

بچے کے والد نے دعویٰ کیا کہ دباؤ بڑھنے پر سندھ پولیس نے رقم جمع کر کے تاوان ادا کر کے بچے کو بازیاب کرایا۔

تاہم کشمور پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ بچے کو ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا۔

ترجمان کے مطابق کشمور پولیس نے تھانہ گیھلپور اور حاجی خان شر کی حدود میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا اس دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ ڈاکو مغوی بچے کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔