چھوٹا دتہ خیل کے مشران کا انتظامیہ سے میرانشاہ بازار کےمعاوضوں پرتمام اعتراضات واپس لینے کا اعلان

شاکر خان وزیر
شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ کے گاؤں چھوٹا دتہ خیل کے مشران، عمائدین اور متاثرین نے باہمی افہام و تفہیم کے بعد سال 2014 کے آپریشن ضربِ عضب کے دوران مسمار ہونے والے میرانشاہ بازار کے معاوضوں، یعنی لینڈ و بلڈنگ لاس سے متعلق تمام تر تنازعات اور شکایات متفقہ طور پر واپس لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

میرانشاہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گاؤں چھوٹا دتہ خیل کے مشران نے ایک مشترکہ اور متفقہ عوامی اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے ماضی کی تمام تر رکاوٹوں کو ختم کرنے کی تصدیق کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کے بعد میرانشاہ بازار کی مسماری پر بلڈنگ اور لینڈ لاس کے معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے گاؤں کے بعض افراد اور فریقین نے مختلف اوقات میں نیب، اینٹی کرپشن، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں شکایات اور اعتراضات جمع کرائے تھے، جس کی وجہ سے معاوضوں کی ادائیگیاں تاحال رکی ہوئی تھیں۔ تاہم اب باہمی مشاورت کے بعد گاؤں کے تمام فریقین نے وہ تمام اعتراضات اور شکایات بلا مشروط واپس لے لی ہیں اور تمام حصہ داروں کو ان کی دکانوں اور زمین کے نقصانات کے حصوں کے مطابق تحریری دستاویزات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔

مشران نے پریس کانفرنس میں اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ایکزیکٹیو کمیٹی میرانشاہ اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاران پر لگائے گئے تمام الزامات غیر ثابت شدہ اور غلط ثابت ہوئے ہیں، جس پر انتظامیہ سے معافی مانگتے ہوئے ان کے تمام اقدامات کو درست تسلیم کر لیا گیا ہے۔

اہلیان چھوٹا دتہ خیل نے حکومتِ خیبر پختونخوا، حکومتِ پاکستان، کمشنر بنوں ڈویژن، ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان، نیب اور محکمہ ریلیف اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سمیت تمام متعلقہ اداروں سے درخواست کی ہے کہ ماضی میں جمع کرائی گئی تمام شکایات اور پابندیوں کی استدعائیں ختم کی جائیں اور متاثرین کے جائز معاوضوں کی بلا تاخیر ادائیگی میں حائل انتظامی و قانونی رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔

گاؤں کے تمام مشران اور عمائدین نے یہ سخت اور متفقہ قومی فیصلہ بھی سامنے رکھا کہ اگر آج کے بعد چھوٹا دتہ خیل کے کسی بھی فرد نے رقم کی فراہمی یا زمین کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو اس کی جائیداد اور معاوضے کی رقم گاؤں کے دیگر متاثرین میں تقسیم کر دی جائے گی اور اس شخص کو مکمل طور پر گاؤں سے بدر کر دیا جائے گا۔