شمالی وزیرستان صدر مقام میرانشاہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نیک محمد کے بھائی نور محمد نے ڈنڈا بردار مسلح جتھے کے ساتھ ڈسٹرکٹ پریس کلب میرانشاہ پر دھاوا بول دیا۔
مسلح افراد نے پریس کلب میں داخل ہو کر شدید توڑ پھوڑ کی، سامان کو نقصان پہنچایا اور وہاں موجود صحافیوں کو ہراساں کیا۔
واقعے کے فوراً بعد وزیرستان یونین آف ورکنگ جرنلسٹس اور میرانشاہ پریس کلب کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں صحافتی تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شمالی وزیرستان سجاد حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ غنڈہ گردی میں ملوث نور محمد اور اس کے تمام مسلح ساتھیوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
صحافتی رہنماؤں نے انتظامیہ کو واضح الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار صرف شمالی وزیرستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ صوبائی اور ملکی سطح کی دیگر صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری ایسے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں سے ہراساں ہونے والی نہیں ہے۔ اگر مقامی پولیس اور سرکار نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو صوبائی حکومت اور اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔










